امریکی کمپنی کے لیے انڈیا میں چھ ’نیوکلیئر پاور ری ایکٹرز‘ کا ٹھیکہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی صدر براک اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے جس میں عالمی حدت، جوہری عدم پھیلاؤ، دفاع اور توانائی سمیت کئی دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

’بھارت بہترین ساتھی‘

انڈین وزیراعظم بدھ کو کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔

انڈین وزارتِ خارجہ کے ترجمان ویکاس سواروپ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں انڈیا کی رکنیت کے لیے حمایت پر صدر براک اوباما کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے لیے ووٹنگ رواں ماہ کے آخر میں ہو رہی ہے۔

امریکہ اور بھارت نے انڈیا میں چھ جوہری پاور ریکٹر قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ غیر فوجی علاقے میں بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب کو دیکھتے ہوئے انڈیا میں جن 6 اے پی ریکٹر بنانے پر اتفاق ہوا ہے انھیں ایک ری ایکٹر امریکی کمپنی ویسٹنگ ہاؤس تیار کرے گی۔

بی بی سی کے نامہ نگار براجیش اوپادھیائے کے مطابق دونوں ممالک نے اس تحریری معاہدے کو بھی حتمی شکل دی ہے جس کے تحت امریکی فوج اپنے ہوائی جہازوں میں ایندھن بھرنے اور ان کی مرمت کے لیے بھارتی اڈوں اور بندرگاہوں کو استعمال کر سکیں گے۔

بی بی سی ہندی کے مطابق اوول آفس میں ہونے والی اس ملاقات کے بعد انڈیا اور امریکہ نے مشترکہ بیان جاری کیا جس میں پیرس سے پٹھان کوٹ اور برسلز سے کابل تک حال میں ہوئے حملوں کی مذمت کی گئی اور انسانی تہذیب کے سامنے انتھا پسندی کے چیلنج کو قبول کیا گیا۔

دونوں ممالک میں دنیا میں انتھا پسندی کے قصورواروں اور اس کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ انصاف کرنے کا عہد کیا اور اس سمت میں کوششوں کو دگنا کرنے، اورمتحد ہونے پر اتفاق کیا گیا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سول جوہری منصوبے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی کمپنی کو اس قسم کا ٹھیکہ ملا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات اور اس میں انڈیا کی مستقل رکنیت پر دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا۔ صدراوباما نے میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول ریجيم (MTCR) میں انڈیا کی رکنیت کا استقبال کیا۔

بیان کے مطابق امریکہ اور بھارت کیمیائی، حیاتیاتی، جوہری اور ریڈیولاجکل مواد استعمال کرنے والے شدت پسندوں کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے مل کر کام کریں گے اور خلا سے زمین کا مطالعہ، مریخ میں تلاش مہم اور جگہ کے بارے میں تعلیم کے مسائل پر دونوں ملک تعاون کریں گے۔

شدت پسند گروہ جیسے القاعدہ، داعش، جیش محمد، لشکر طیبہ، ڈی کمپنی اور ان سے منسلک دیگر دھڑوں سے ہونے والے شدت پسند خطرے کے خلاف دونوں ممالک میں مل کر کام کرنے اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

وزیراعظم مودی کے مطابق امریکی صدر اگلی ملاقات جی 20 ممالک کے اجلاس میں ہوگی اور دونوں ملک ماحول سے انصاف کے لیے دیکھے جانے والے خواب پورے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور انڈیا دہشت گردی، نیوکلیئر سکیورٹی اور عالمی حدت جیسے بین الاقوامی مسائل پر ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ مودی پانچ ممالک کے دورے پر ہیں۔ انھوں نے افغانستان، قطر اور سوئٹزرلینڈ کا دورہ مکمل کر لیا ہے جبکہ امریکہ کے بعد وہ میکسیکو جائیں گے۔

اس سے قبل امریکہ آمد پر انھوں نے آرلنگٹن نیشنل سیمیٹری میں نامعلوم فوجیوں کے مقبرے پر پھول چڑھائے۔

انھوں نے اٹارنی جنرل لوریٹا لنچ سے ایک تقریب میں ملاقات کی جس میں انڈیا سے چوری کیے گئے 200 نوادرات کو انڈیا کے حوالے کیے گئے۔

اسی بارے میں