ریپ کے مجرم کو چھ ماہ قید پر شور

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جنسی زیادتی کرنے والے کو کتنے برس قید رہنا چاہیے؟

امریکہ میں ایک بے ہوش خاتون کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طالبعلم کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائے جانے پر شور مچ گیا ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کا کہنا ہے کہ جج کے فیصلے سے لوگ اسے طرح کے واقعات کو رپورٹ کرنے سےگریز کریں گے۔

ریپ کا شکار عورت نے عدالتی فیصلے پر اپنے ایک زبردست بیان میں اس سارے واقع کو بیان کیا ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں کہا: ’میں صرف شراب کے نشے میں دھت ایک فرد نہیں ہوں جو کالج میں ایک پارٹی کے دوران کوڑے دان کے پاس پڑی تھی اور ریپ کرنے والا ایک نامور امریکی یونیورسٹی کا ابھرتا ہوا تیراک ہے اور اس کا اتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔‘

انھوں نے اپنے بیان میں لکھا: ’میں بھی ایک انسان ہوں جسے نہ مندمل ہونے والے زخم نےگھائل کر دیا ہے اور تقریباً ایک سال تک یہ سوچتے سوچتے میری زندگی تھم گئی تھی کہ میں کسی قابل بھی ہوں یا نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دو افراد نے بروک ایلن ٹرنر کو ایک بے ہوش خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے دیکھا

گمنام عورت سٹینفورڈ یونیورسٹی کے کیمپس میں اپنے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ یونیورسٹی کے سٹار ایتھلیٹ 20 سالہ بروک ایلن ٹرنر نے اس پر کیسے حملہ کیا۔

کیلیفورنیا میں ایک جیوری نے 20 سالہ بروک ایلن ٹرنر کو تین مختلف الزامات پر مجرم قرار دیا اور پراسیکیوٹر نے ایلن ٹرنر کو چھ برس کی قید کی سزا کی سفارش کی لیکن جج ایرن پرکسی نے بروک ایلن ٹرنر کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔

جن الزامات میں بروک ایلن ٹرنر کو مجرم قرار دیا گیا ہے ان میں انھیں چودہ برس قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔

جج ایرن پرکسی نے ایلن ٹرنر کو چھ ماہ قید کی سزا دینے کے فیصلے میں کہا کہ لمبی قید کی سزا کا بروک ایلن ٹرنر پر برا اثر پڑے گا۔

اس عدالتی فیصلے پر تنقید کرنے والوں کا خیال ہے کہ ایلن ٹرنر سے متعلق عدالتی فیصلہ اس سوچ سےمطابقت رکھتا ہے جو ہمیشہ حملہ آور کا مددگار ہوتا ہے۔

جولیا ڈکسن بھی ایک ایسی عورت ہیں جن پر یونیورسٹی آف آراکن، اوہائیو میں دوران تعلیم جنسی حملہ ہوا۔ ان کے حملہ آور کو 180 دن کی قید کی سزا سنائی گئی لیکن حقیقت میں وہ صرف تین دن ہی جیل میں رہا۔

جولیا کہتی ہیں :’میں اس دکھ بھری کہانی کو بھی کامیابی تصور کرتی ہوں۔ بہت کم لوگ یہاں تک پہنچ پاتے ہیں۔‘

جولیا ڈکسن کہتی ہیں کہ ان کے مجرم نے ایک معاہدے کے تحت اپنے جرم کو قبول کر لیا تھا۔جولیا ڈکسن کہتی ہیں کہ جنسی حملہ آوروں کو کم از کم پندرہ برس کی قید کی سزا ہونی چاہیے۔’ یہ سانحہ مجھے ساری زندگی متاثر کرے گا۔ میرے حملہ آور کےلیے سزا اتنی طویل ہونی چاہیے تھی جس میں وہ یہ سمجھ پاتا کہ اس کے عمل کے کیا نتائج ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption میرا بیٹا ’20 منٹ کے ایکشن‘ کے لیے لمبی سزا کا مستحق نہیں ہے: مجرم کا والد ڈین ایلن

جنسی حملہ آور بروک ایلن ٹرنر کے والد ڈین ٹرنر نے کہا کہ میرا بیٹا ’20 منٹ کے ایکشن‘ کے لیے لمبی سزا کا مستحق نہیں ہے۔’ اس کا اس سے پہلا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے اور کبھی بھی تشدد کی طرف مائل نہیں رہا ہے۔

جولیا ڈکسن کہتی ہیں کہ اس گمنام خاتون کا بھی مستقبل ہے اوراسے ناکردہ گناہ کی کوئی سزا ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سزا کا تعین کرنے والے’جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی صلاحیت دیکھ کر کرتے ہیں جبکہ زیادتی کا شکار ہونے والوں کا ماضی دیکھا جاتا ہے۔‘

امریکی صدر براک اوباما اور نائب صدر جو بائیڈن نے 2014 میں امریکہ میں کالج اور یونیورسٹیوں میں جنسی تشدد کے حوالے سے آگاہی کی ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت استغاثہ اور قانون نافذ کرنے والوں کی خصوصی تربیت بھی شامل تھی۔

امریکہ میں اب بھی جنسی تشدد کے واقعات کو بہت کم رپورٹ کیا جاتا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی میں جنسی تشدد کا شکار ہونے والی صرف بارہ فیصد خواتین کا مقدمہ پولیس تک پہنچ پاتا ہے۔

فیبین ڈیاز کو مشی گن میں یونیورسٹی جانے کے صرف دو روز بعد ہی جنسی حملے کاسامنا کرنا پڑا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ استغاثہ نے انھیں بتایا تھا کہ یہ واقعہ رپورٹ کرنے کے قابل نہیں ہے اور اسے ہینڈل کرنا ان کے بس میں نہیں ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اگر وہ سیاہ فام ہوتا تو پندرہ برس قید، اگر ہسپانوی ہوتا تب بھی یہی: فیبین ڈیاز

فیبین ڈیاز کہتی ہیں:’ (جنسی) حملہ آوروں کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹیاں کچھ نہیں کرتی ہیں۔ یونیورسٹیوں کا نظام فرسودہ ہے۔ سٹینوفورڈ(یونیورسٹی) کا واقعہ اس کا واضح ثبوت ہے۔‘

فیبین ڈیاز سمجھتی ہیں کہ بروک ایلن ٹرنر کے بارے میں نرم عدالتی فیصلے کی وجوہات میں ان کا خاندانی پس منظر اور ان کی نسل بھی ایک عنصر ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ایلن ٹرنر اگر سفید فام اور مراعات یافتہ طبقے سے نہ ہوتا تو اسے پندرہ برس قید کی سزا ہوتی۔ ’اگر وہ سیاہ فام ہوتا تو پندرہ برس قید، اگر ہسپانوی ہوتا تب بھی یہی۔‘

اسی بارے میں