چین کی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں انڈین رکنیت کی مخالفت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

چین نے نیوکلئیر سپلائر گروپ میں انڈیا کی رکنیت کی مخالفت کی ہے۔

تاہم ویانا میں جاری این جی ایس کے اجلاس میں شرکت کرنے والے سفیروں کا کہنا ہے کہ امریکی حمایت حاصل کرنے کے بعد بظاہر انڈیا یہ رکنیت حاصل کرنے کے قریب تر دکھائی دے رہا ہے۔

48 ممالک پر مشتمل یہ گروپ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے قوانین کے تحت جوہری مواد فراہم کرنے کے لیے قوانین پر عمل درآمد کرواتا ہے۔ ایک طرح سے یہ جوہری مواد کی پرامن مقاصد کے لیے تجارت کا نگران ادارہ ہے۔

نیوکلیئر سپلکائر گروپ کیا ہےپاکستان کی نیوکلیئر سپلائیر گروپ میں رکنیت کے لیے درخواست

عموماً جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے(این این ٹی) پر دستخط کرنے والے ممالک اس گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں اور انڈیا اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے۔ لیکن اس نے اپنے جوہری پروگرام پر کنٹرول کیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ اس نے امریکہ سے تعاون کا معاہدہ طے پانے کے بعد اسے این ایس جی کے قواعد سے بہت حد تک استثنیٰ مل گیا ہے۔

جمعرات کو این ایس جی گروپ کی میٹنگ میں شرکت کرنے والے دو سفیروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ بہت سے ایسے ممالک تھے جو پہلے تو انڈیا کی رکنیت کی مخالفت کرتے تھے تاہم اب ان کے رویے میں نرمی آئی ہے۔ چین اب بھی انڈیا کی رکنیت کا مخالف ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق آسٹریا، جنوبی افریقہ، ترکی، آئرلینڈ اور نیوزی لینڈ کی حمایت مل گئی ہے۔

چین کا موقف ہے کہ انڈیا جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شامل ملک نہیں۔ اس کہ علاوہ چین یہ بھی چاہتا ہے کہ این ایس جی کی رکینت انڈیا کو ملنے کی صورت میں پاکستان کو بھی دی جائے۔

ایک اور اہم مسئلہ جو رکنیت کے حوالے سے بھارت کو درپیش ہے وہ یہ ہے کہ رکنیت کی درخواست کرنے والے دو ممالک پاکستان اور اسرائیل کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں سے کیسے نمٹا جائے۔

یا رہے کہ یہ دونوں بھی وہ ممالک ہیں جنھوں نے این پی ٹی کے دستخط بھی نہیں کیے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے 21 مئی 2016 کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لیے باضابطہ طور پر درخواست جمع کرائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ NSG
Image caption اننڈیا کے خلاف چین کا ساتھ دینے والے ممالک میں ترکی، نیوزی لینڈ، آئرلینڈ، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا شامل ہیں

امریکی صدر نے این سی جی کی رکنیت کے لیے سنہ 2010 میں انڈیا کی حمایت کا اعلان کیا تھا اور تب سے ان کی انتظامیہ مخالفین کے ذہنوں کو بدلنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے کہا ہے کہ جمعرات کو انڈیا کو میکسیکو کی حمایت حاصل ہوئی۔

یاد رہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ نے اس سے قبل این ایس جی کے ارکان کو ایک خط ارسال کیا تھا اور اس میں انڈیا کی رکنیت کے مخالفین سے اپیل کی تھی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں توانائی کی بڑھتی ضروریات میں جوہری ری ایکٹروں سے توانائی کا حصول بڑھے گا جو ایک بہت بڑی ابھرتی ہوئی مارکیٹ ہے اور اسی لیے پاکستان اور انڈیا اس گروپ کا حصہ بن کر اس تجارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں