’ رمضان کے کھانے کے تنازعے پر کیمپ میں آگ لگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہاں مسلمان اور عیسائی تارکین وطن قیام کر رہے تھے

جرمنی کے مغربی شہر ڈوسلڈورف میں تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ رمضان کے کھانے سے پیدا ہونے والے تنازعے کے باعث پناہ حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے کیمپ میں آتشزدگی ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ دو افراد جو روزے کی حالت میں نہیں تھے، انھوں نے شکایت کی کہ ان کا کھانا بہت کم ہے۔

اس کیمپ میں 282 افراد قیام پذیر تھے۔

شمالی افریقہ سےتعلق رکھنے والے دو 26 سالہ افراد کو آگ لگانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

آگ کے نتیجے میں ڈوسلڈورف کے ہوائی اڈے کے قریب واقع مرکزی کنونشن ہال تباہ ہوگیا ہے جبکہ نقصان کا تخمینہ ایک کروڑ یورو لگایا گیا ہے۔

اس ہال کو شام، عراق، افغانستان اور شمالی افریقہ سے تعلق رکھنے والے مردوں کے رہائشی مرکز کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا جو جرمن ریاست نورڈرائن ویسٹ فالن میں کسی اور مقام میں منتقلی کا انتظار کر رہے ہیں۔

یہاں مسلمان اور عیسائی تارکین وطن قیام کر رہے تھے۔ حکام نے جرمنی کے خبررساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ ڈوسلڈورف میں 7000 کے قریب تارکین وطن اور پناہ گزین موجود ہیں۔

جرمن میڈیا نے ریڈ کراس کے کارکنوں کے حوالے سے بتایا کہ ہال میں صورتحال پہلے ہی خراب تھی جبکہ پولیس اس سے قبل آگ لگانے کی کوششوں کی رپورٹس دیکھ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption منگل کو یہاں آگ بھڑک اٹھی تھی اور اس کا دھواں شہر بھر سے دکھائی دے رہا تھا

مبینہ طور پر رمضان کے آغاز کے صورتحال مزید خراب ہوگئی اور عملے پر جوتے پھینکنے کے واقعات بھی ہوئے۔

شام کے وقت روزہ رکھنے والے مسلمانوں کو کھانا دیا گیا تو مردوں کے ایک گروہ نے اس میں حصہ نہیں لیا اور شکایت کی کہ ان کا کھانا زیادہ نہیں ہے۔

ایک تفتیش کار کا کہنا ہے کی ’ہم اسی پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ منگل کو یہاں آگ بھڑک اٹھی تھی اور اس کا دھواں شہر بھر سے دکھائی دے رہا تھا۔

اس واقعے کے بعد آٹھ افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دو کو آگ لگانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

اس واقعے میں تمام افراد محفوظ رہے تاہم کچھ افراد کو دھوئیں کے باعث سانس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی بارے میں