امریکہ: ریپ کے مجرم سے نرمی برتنے پر جج کی برطرفی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption جنسی زیادتی کرنے والے کو کتنے برس قید رہنا چاہیے؟

امریکہ میں ایک بے ہوش خاتون کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طالبعلم کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنانے والے جج کو عہدے سے برخاست کرنے کی پٹیشن پر اب تک دس لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کر چکے ہیں۔

جج ایرن پرسکی کی جانب سے ریپ کے مجرم 20 سالہ بروک ایلن ٹرنر کو صرف چھ ماہ کی سزا سنانے پر متاثرہ خاتون کے علاہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید الفاظ میں جج کو تنقید کا نشانہ بنا یا تھا۔

امریکہ میں ریپ کے مجرم کو چھ ماہ قید پر شور

امریکی یونیورسٹیوں میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کا کہنا ہے کہ جج کے فیصلے سے لوگ اسے طرح کے واقعات کو رپورٹ کرنے سےگریز کریں گے۔

سٹینفورڈ یونیورسٹی کے طالبعلم کے ہاتھوں ریپ کا شکار ہونے والی عورت نے عدالتی فیصلے پر ردِ عمل کے طور پر ایک کھلا خط لکھ کر اسے نا انصافی قرار دیتے ہوئےاپنے جذبات کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’میں صرف شراب کے نشے میں دھت ایک فرد نہیں ہوں جو کالج میں ایک پارٹی کے دوران کوڑے دان کے پاس پڑی تھی اور ریپ کرنے والا ایک نامور امریکی یونیورسٹی کا ابھرتا ہوا تیراک ہے اور اس کا اتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔‘

’میں بھی ایک انسان ہوں جسے نہ مندمل ہونے والے زخم نےگھائل کر دیا ہے اور تقریباً ایک سال تک یہ سوچتے سوچتے میری زندگی تھم گئی تھی کہ میں کسی قابل بھی ہوں یا نہیں۔‘

اس خط کو بعد میں سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کیا گیا تھا اور اسے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں نے پڑا تھا۔

امریکی صدر نائب صدر جو بائیڈن نے حال ہی میں اس خط کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اس خط کے الفاظ میرے ذہن پر نقوش ہوگئے ہیں۔میری خواہش ہے کہ آپ کو کبھی ایسا خط نہ لکھنا پڑتا۔ اس خط کو پڑھ کر مجھے شدید غصہ بھی آیا اور انتہائی افسوس بھی ہوا۔‘

خیال رہے کہ کیلیفورنیا میں ایک جیوری نے بروک ایلن ٹرنر کو تین مختلف الزامات پر مجرم قرار دیا تھااور پراسیکیوٹر نے ایلن ٹرنر کو چھ برس کی قید کی سزا کی سفارش کی لیکن جج ایرن پرسکی نے بروک ایلن ٹرنر کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

جن الزامات میں بروک ایلن ٹرنر کو مجرم قرار دیا گیا ہے ان میں انھیں چودہ برس قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔

اسی بارے میں