’کانگریس کی رپورٹ میں سعودی عرب پر معاونت کا الزام نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی انٹیلیجنس ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں پر کانگریس کی رپورٹ کو شائع کرنے سے سعودی عرب کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ 2002 کی کانگریس کی رپورٹ کے 28 صفحات کو شائع نہیں کیا گیا تھا جس کے باعث یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان صفحات میں درج تھا کہ 11 ستمبر کے حملوں میں سعودی عرب کی معاونت شامل تھی۔

انھی صفحوں کی بنیاد پر یہ تنازع بھی پیدا ہوا ہے کہ آیا 11 ستمبر کے حملوں میں لواحقین سعودی عرب پر مقدمہ دائر کر سکتے ہیں یا نہیں۔

سعودی عرب 2001 میں امریکہ پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتا ہے۔

واضح رہے کہ ان حملوں میں ملوث 19 ہائی جیکروں میں سے 15 کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔

جس سینیٹ کمیٹی نے 2002 میں یہ رپورٹ مرتب کی اس کے سربراہ سابق سینیٹر باب گریم تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ہائی جیکروں کی معاونت کی تھی۔

تاہم جان برینن کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ انھوں نے سعودی ٹی وی چینل عربیہ ٹی وی کو انٹرویو میں کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ یہ 28 صفحات جلد عام کر دیے جائیں گے اور میرے خیال میں اچھا ہے کہ ایسا ہو۔ لوگوں کو ان صفحات کو سعودی عرب کے ملوث ہونے کے شواہد کے طور پر نہیں لینا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

جان برینن نے مزید کہا کہ 2002 میں تیار کیے جانے والے یہ 28 صفحات محض ’ابتدائی ریویو‘ تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’9/11 کمیشن نے تفصیل میں سعودی عرب کے ملوث ہونے کے الزامات کا جائزہ لیا ۔۔۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ سعودی عرب کے ادارے یا ان کے سینیئر اہلکاروں کے ان حملوں میں ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔‘

یاد رہے کہ امریکی سینیٹ میں اس بل نے بڑی رکاوٹ عبور کر لی ہے جس کے تحت 11 ستمبر میں امریکہ پر حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سعودی عرب کی حکومت پر مقدمہ کر سکیں گے۔

امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ وہ اس بل کو ویٹو کر دیں گے، لیکن ڈیموکریٹک جماعت کے سینیٹروں کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ صدر اوباما کا ویٹو نہیں مانا جائے گا۔

دوسری جانب سعودی عرب نے اوباما انتظامیہ اور امریکی کانگریس کے ارکان کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے کوئی ایسا قانون یا بِل منظور کیا جس کے تحت کوئی امریکی عدالت سعودی عرب کو 11 ستمبر کے حملوں کا ذمہ دار قرار دے سکتی ہے، تو سعودی عرب امریکہ میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے فروخت کر دے گا۔

اسی بارے میں