نائٹ کلب حملے میں ہلاکتیں 50، اورلینڈو میں ایمرجنسی نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں پولیس کے مطابق ہم جنس پرستوں کے ایک نائٹ کلب میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

حملہ آور کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ اس کا ’رحجان اسلامی شدت پسندی کی جانب‘ تھا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ایک بیان میں فائرنگ کے اس واقعے کو ’درجنوں معصوم لوگوں کا خوفناک قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

٭ اورلینڈو حملہ: کب کیا ہوا؟

٭ کرسٹینا گریمی کا قاتل ’دوسرے شہر سے آیا تھا‘

وائٹ ہاؤس سے دیے اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دہشت گردی اور نفرت انگیز عمل ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فی الحال حملہ آور کے مقصد کے بارے میں واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے۔‘

اورلینڈو کے میئر نے اس حملے کے بعد شہر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ایک بیان میں فائرنگ کے اس واقع کو ’درجنوں معصوم لوگوں کا خوفناک قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے دیے اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دہشت گردی اور نفرت انگیز عمل ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فی الحال حملہ آور کے مقصد کے بارے میں واضح طور پر معلوم نہیں ہو سکا ہے۔‘

پولیس نے کہا کہ اس کے اہلکاروں نے واقعے کے تین گھنٹے بعد شہر کے وسط میں واقع پلس کلب میں داخل ہو کر حملہ آور کو ہلاک کر دیا جس نے کئی افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ملزم کا نام عمر متین ہے اور اس کی عمر 29 برس ہے۔

پولیس نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے تاہم یا معلوم نہیں کہ آیا حملہ آور کا تعلق امریکہ ہی سے تھا یا کسی اور ملک سے۔

اورلینڈو پولیس کے چیف جان مینا نے ایک نیوز بریفنگ میں بتایا کہ مرنے والوں کی صحیح تعداد ابھی معلوم نہیں لیکن ’تقریباً 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔‘ اس کے علاوہ 42 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

انھوں نے کہا کہ حملہ آور ایک رائفل، ایک پستول سے مسلح تھا اور اس نے اپنے ساتھ کسی قسم کا آلہ بھی باندھ رکھا تھا۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور دہشت گردی کی کسی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا، البتہ اس کے بارے میں حال ہی میں ایک اور جرم کے سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی تھیں۔

اس سے قبل اورلینڈو پولیس نے کہا تھا کہ انھوں نے ایک ’کنٹرولڈ دھماکہ‘ کیا ہے۔ مینا کے بقول اس کا مقصد حملہ آور کی توجہ بٹانا تھا۔ مینا نے کہا کہ حملہ آور نے کلب کے اندر لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Orlando Police
Image caption سوشل میڈیا پر جو تصویریں شيئر کی جا رہی ہیں ان میں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے

پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ حملہ رات دو بجے کے قریب شروع ہوا اور کلب میں موجود ایک پولیس اہلکار کے ساتھ حملہ آور نے فائرنگ کا تبادلہ کیا۔ اس کے بعد کلب میں موجود یرغمالوں کے متعدد ٹیکسٹ پیغامات اور فون کالز کے بعد پانچ بجے کے قریب پولیس نے کلب میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔

انھوں نے کہا کہ ہنگامی پولیس نے حملہ آور کے ساتھ گولیاں کا تبادلہ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

ایف بی آئی کے ایک ترجمان نے کہا کہ وہ اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا حملہ آور تنہا تھا یا اس کے کوئی ساتھی بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر وہ شدت پسند اسلامی رجحان رکھتا تھا، تاہم فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ یہ مقامی یا پھر بین الاقوامی دہشت گردی کا واقعہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

کلب میں موجود افراد کے رشتہ دار اپنے پیاروں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے مقامی ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔

یہ واقعہ پلس کلب میں پیش آیا جو ہم جنس پرستوں کا کلب ہے۔ کلب میں موجود ایک شخص نے کہا کہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات دو بجے ہوا۔

پلس کلب نے اپنے فیس بک پر یہ پیغام لکھا ہے: ’ہر کوئی پلس سے نکل جائے اور بھاگتا رہے۔‘

رکارڈو الماڈوور نے پلس کے فیس بک پر لکھا: ’بار اور ڈانس فلور پر موجود لوگ زمین پر لیٹ گئے اور ہم میں سے کچھ جو بار سے دور تھے وہ کسی طرح سے نکل بھاگنے میں کامیاب ہوئے اور بھاگتے رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مقامی ٹی وی رپورٹر کے مطابق 20 سے زائد افراد پر فائرنگ کی گئی

ایک دوسرے شخص اینتھنی ٹوریس کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت کلب میں تھے اور انھوں نے وہاں سے ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ انھوں نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا ہے کہ کلب کے اندر فائرنگ ہوئی اور لوگ چیخ رہے تھے کہ ’لوگ مرے ہیں۔‘

انھوں نے لکھا: ’وہ لوگوں کو باہر کھینچ رہے ہیں اور سٹریچر پر لاد رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ اورلینڈو میں ہی امریکی ٹی وی پروگرام ’دی وائس‘ میں حصہ لینے والی گلوکارہ کرسٹینا گریمی کو جمعے کی شب ایک کنسرٹ کے بعد اپنے مداحوں کو آٹو گراف دیتے ہوئے ایک مسلح شخص نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں