’حملہ آور عمر متین کون تھا؟‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

امریکی ریاست فلوریڈا کے اورلینڈو شہر کے ایک نائٹ کلب میں حملہ کرنے والے مسلح شخص کی شناخت عمر متین کے طور پر کی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 29 سالہ عمر متین امریکی شہری تھا اور وہ اورلینڈو کے جنوب میں سینٹ لوسی کاؤنٹی کے علاقے فورٹ پیئرس کے رہنے والے تھے۔

٭ ’حملہ آور نے دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان کیا تھا‘

٭ اورلینڈو حملہ: کب کیا ہوا؟

حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کو ان کے بارے میں سنہ 2013 سے معلومات تھی۔

اتوار کی شب کو متین کے پلس نائٹ کلب پر حملے میں 50 افراد ہلاک جبکہ 53 زخمی ہوئے ہیں۔

ایف بی آئی کے حکام کا کہنا ہے کہ بظاہر ’حملہ آور متین بنیاد پرست اسلامی نظریات کی جانب مائل تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption عمر متین کی سابق اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ بہت مذہبی نہیں تھا

ایف بی آئی نے تصدیق کی ہے کہ عمر متین نے حملے سے پہلے ایمرجنسی نمبر 911 پر کال کیا تھا اور خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم سے اپنی وفاداری کا اظہار کیا تھا۔ بعد میں اس تنظیم نے کہا کہ ان کے ’جنگجو‘ نے حملہ کیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ وہ اس میں براہ راست شامل تھی یا محض دعویٰ کر رہی ہے۔

دریں اثنا متین کے والد میر صادق نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ’اس واقعے کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ ميامي میں ایک ہم جنس پرست جوڑے کے بوسے پر اسے شدید غصہ آیا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ گھر کے لوگوں کو اس کے حملے کے منصوبے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے خاندان کی طرف سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ ’تمام امریکیوں کی طرح وہ بھی اس واقعہ سے صدمے میں ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Omar Mateen
Image caption متین سنہ 2007 سے مسلح سکیورٹی افسر کے طور پر کام کر رہا تھا

بہرحال اس واقعے کے بعد حملہ آور کے بارے میں سوال اٹھے ہیں کیونکہ گذشتہ تین سال میں ایف بی آئی نے متین کے ممکنہ شدت پسند رابطے کے تعلق کے حوالے سے تین بار ان سے ملاقات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف بی آئی نے عمر متین سے تین بار ملاقات کی تھی

ایف بی آئی ایجنٹ رونالڈ ہوپر نے کہا کہ ایجنسی کو پہلی بار متین کے بارے میں سنہ 2013 میں پتہ چلا تھا جب انھوں نے اپنے ساتھیوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دیا تھا اور شدت پسندوں سے روابط کا دعویٰ کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے بعد معاملے کی پوری تحقیقات کی گئی تھی لیکن بعد میں کیس کو ختم کر دیا گیا تھا۔

اس کے بعد ان سے سنہ 2014 میں منیر محمد ابو صالحہ سے تعلق کے بارے میں گفتگو کی گئی لیکن اس کے ’خاطر خواہ شواہد‘ نہیں ملے۔

ایف بی آئی کے ریڈار پر ہونے کے باوجود متین کو باضابطہ دہشت گردی کی واچ لسٹ میں نہیں رکھا گيا تھا اور فلوریڈا کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق اسے اسلحہ رکھنے کا لائسنس دیا گیا تھا۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ متین جی فور ایس کے لیے مسلح سکیورٹی افسر کے طور پر سنہ 2007 سے کام کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف بی آئی کے مطابق اس نے 911 پر فون کرکے دولت اسلامیہ سے اپنی وفاداری کی بات کہی تھی

پولیس کا کہنا ہے کہ عمر متین ایک خود کار رائفل، ایک ہینڈ گن اور کچھ دھماکہ خیز مادہ سے لیس تھا۔

متین کی پیدائش نیویارک میں ہوئی تھی۔ ان کے والدین کا تعلق افغانستان سے ہے اور بعد میں یہ لو فورٹ پیئرس منتقل ہو گئے۔

متین کی سابق اہلیہ ستارہ یوسفی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ متین پرتشدد اور خلل دماغ کے مرض کا شکار تھا اور اسے پر متعدد بار تشدد کیا۔

ان کی شادی سنہ 2009 میں انٹرنیٹ پر بات چیت کے بعد ہوئی تھی لیکن خاتون کے والدین کو جب مار پیٹ کا علم ہوا تو انھوں نے متین سے علیحدگی کروا دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Omar Mateen
Image caption عمر متین کے والدین کا تعلق افغانستان سے ہے

اس سے پہلے متین کی سابق اہلیہ نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کو بتایا کہ ’متین بہت مذہبی نہیں تھا‘ اور جب وہ اس کے ساتھ تھی تو وہ پابندی سے جم میں ورزش کیا کرتے تھے۔

انھوں نےکہا: ’وہ مستقل مزاج نہیں تھا۔ وہ مجھے مارتا تھا۔ وہ آتا اور مجھے کسی بات پر بھی پیٹنے لگتا جیسے کہ کپڑے ابھی تک کیوں نہیں دھلے یا کوئی کام کیوں نہیں ہوا۔‘

اسی بارے میں