فرانس: ’پولیس کمانڈر کے قاتل کا تعلق دولت اسلامیہ سے تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ

فرانس میں حکام کے مطابق پولیس کے کمانڈر کو ہلاک کرنے والے حملہ آور نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

پولیس نے چاقو کے وار سے پولیس کمانڈر کو قتل کرنے حملہ آور کو پیر اور منگل کی درمیانی شب پیرس کے مضافاتی علاقے میگناویلے کے ایک مکان میں کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔

حملہ آور نے پولیس کمانڈر کو ہلاک کرنے کے بعد اس مکان میں مقتول کی ساتھی خاتون اور ان کے بیٹے کو یرغمال بنا لیا تھا۔

حکام کے مطابق کارروائی میں خاتون ہلاک ہوگئی جبکہ بیٹے کو بچا لیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حکام نے دہشت گردی کے طور پر اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند تنظیم سے منسلک ویب سائٹ عماق کے مطابق تنظیم کے ایک جنگجو نے یہ حملہ کیا۔

فرانس کے صدر فرانسوا اولاند منگل کو اس واقعے کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کریں گے۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان پائر ہینری برینڈٹ نے کہا ہے کہ پولیس کمانڈر کو ہلاک کرنے کے بعد جب قاتل نے دو افراد کو یرغمال بنا لیا تو پولیس کے خصوصی یونٹ کو رات نو بجے طلب کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب حملہ آور سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق حملہ آور نے مذاکرات کرنے والے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ اس نے دولتِ اسلامیہ کی اطاعت کر رکھی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکار پر اس کے گھر کے باہر اللہ اکبر کہتے ہوئے چاقو سے حملہ کیا اور پھر اس کے مکان کے اندر چلا گیا اور خاتون، بچے کو یرغمال بنا لیا۔

پولیس کی کارروائی میں حملہ آور ماراگیا جبکہ اس دوران یرغمال بنائی گئی خاتون ہلاک ہو گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی کارروائی کے دوران زور دار دھماکے بھی سنے گئے۔

اسی بارے میں