اورلینڈو حملہ:امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکیوں کو اسلحے رکھنے کا حق ملک کے آئین سے حاصل ہے

امریکی شہر اورلینڈو کے ایک نائٹ کلب میں فائرنگ کے واقعے میں 49 افراد کی ہلاکت نے جہاں اسلحے پر کنٹرول کے معاملے پر جاری بحث کو تازہ کر دیا ہے وہیں ملک میں اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔

اتوار کو ہونے والا حملہ امریکہ کی تاریخ میں عوامی مقام پر فائرنگ کا مہلک ترین حملہ تھا۔

پیر کو اسلحہ بنانے والی مشہور کمپنی سمتھ اینڈ ویسن کے حصص کی قدر میں تقریباً سات فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ اس کی مقابل کمپنی سٹرم، رجر اینڈ کمپنی کے حصص تو ساڑھے آٹھ فیصد تک بڑھ گئے۔

امریکہ میں فائرنگ کے واقعات میں شہری ہلاکتوں کے واقعات کے بعد ایسی کمپنیوں کی قدر ماضی میں بھی بڑھتی رہی ہے۔

عموماً اس سرمایہ کاری کی وجہ یہ خیال ہوتا ہے کہ ایسے کسی بھی واقعے کے بعد ملک میں اسلحہ رکھنے کے قوانین میں سختی لائی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں لوگ قانون سازی سے قبل زیادہ اسلحہ خریدیں گے۔

اورلینڈو میں فائرنگ کرنے والے 29 سالہ عمر متین ایک خودکار رائفل کے علاوہ پستول سے لیس تھے۔

امریکہ میں الکوحل، ٹوبیکو اور فائر آرمز کے بیورو کے مطابق متین نے گذشتہ دس دنوں کے دوران فلوریڈا میں نو ایم ایم کی ایک نیم خود کار دستی پستول اور اعشاریہ 223 کیلیبر کی اے آر رائفل خریدی تھی۔

انھوں نے یہ اسلحہ امریکی قانون کے تقاضے پورا کرتے ہوئے خریدا تھا۔

امریکہ میں رواں سال کے اوائل میں اسلحے کی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس کی وجہ صدر براک اوباما کے وہ اقدامات بتائے جاتے ہیں جس کے تحت اسلحے کی دستیابی کو محدود کرنا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ کا آئین اپنے شہریوں کو اسلحہ رکھنے کا حق دیتا ہے۔

اسی بارے میں