جنسی زیادتی پر کم سزا دینے والے جج کو مقدمے سے ہٹا دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکہ میں ایک بےہوش خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے سٹینفرڈ یونیورسٹی کے طالبعلم کو صرف چھ ماہ قید کی سزا سنانے والے جج کو اسی قسم کے ایک اور مقدمے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

استغاثہ نے کیلیفورنیا کے علاقے سانٹا کلارا کے جج آرون پرسکی کے خلاف درخواست دائر کی جس میں جج پر تعصب کا الزام لگایا گیا۔

جس مقدمے کی سماعت سے جج پرسکی کو ہٹایا گیا ہے اس میں ایک مرد نرس پر ادویات کے زیر اثر ایک مریضہ کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے کا الزام ہے۔

یاد رہے کہ جج پرسکی کو پچھلے ہفتے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کیونکہ بہت سے لوگوں کے خیال میں اس جرم کے لیے چھ ماہ کی سزا بہت کم ہے۔

جج پرسکی کو عہدے سے برخاست کرنے کے حق میں ایک پٹیشن بھی شروع کی گئی ہے جس پر اب تک دس لاکھ سے زیادہ افراد دستخط کر چکے ہیں۔

اس تازہ مقدمے میں ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل جیف روزن نے جج پرسکی کے خلاف درخواست دائر کی۔

یہ درخواست اس کے ایک دن بعد آئی ہے جب جج پرسکی نے ڈاک چوری کے ایک مقدمے کو دورانِ سماعت ہی خارج کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جج آرون پرسکی کی جانب سے ریپ کے مجرم 20 سالہ بروک ایلن ٹرنر کو صرف چھ ماہ کی سزا سنانے پر متاثرہ خاتون کے علاہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے شدید الفاظ میں جج کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

ڈسٹرکٹ اٹارنی جنرل جیف روزن نے ایک بیان میں کہا: ’ہم جج پرسکی کی جانب سے ڈاک چوری کے مقدمے کو خارج کرنے کے غیر معمولی فیصلے پر مایوس بھی ہیں اور پریشان بھی۔ اس کے بعد ہمیں جج پرسکی پر اعتماد نہیں رہا کہ وہ مرد نرس کے مقدمے میں انصاف کر پائیں گے۔‘

جج پرسکی کی جانب سے ریپ کے مجرم 20 سالہ بروک ایلن ٹرنر کو صرف چھ ماہ کی سزا سنانے پر متاثرہ خاتون کے علاہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے جج کو شدید الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سٹینفرڈ یونیورسٹی کے طالبعلم کے ہاتھوں ریپ کا شکار ہونے والی عورت نے عدالتی فیصلے پر ردِ عمل کے طور پر ایک کھلا خط لکھ کر اسے ناانصافی قرار دیا تھا۔

انھوں نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ ’میں صرف شراب کے نشے میں دھت ایک فرد نہیں ہوں جو کالج میں ایک پارٹی کے دوران کوڑے دان کے پاس پڑی تھی اور ریپ کرنے والا ایک نامور امریکی یونیورسٹی کا ابھرتا ہوا تیراک ہے اور اس کا اتنا کچھ داؤ پر لگا ہوا تھا۔‘

خیال رہے کہ کیلیفورنیا میں ایک جیوری نے بروک ایلن ٹرنر کو تین مختلف الزامات پر مجرم قرار دیا تھااور استغاثہ نے ایلن ٹرنر کو چھ برس کی قید کی سزا کی سفارش کی، لیکن جج ایرن پرسکی نے انھیں صرف چھ ماہ قید کی سزا سنائی۔

جن الزامات میں بروک ایلن ٹرنر کو مجرم قرار دیا گیا ہے ان میں انھیں 14 برس قید کی سزا بھی ہو سکتی تھی۔

اسی بارے میں