افغان سرحد پر تازہ جھڑپ میں دو پاکستانی اہلکار زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption منگل اور بدھ کی درمیانی رات بھی فریقین نے ایک دوسرے کے مورچوں پر گولہ باری کی تھی

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان بدھ کی صبح ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس میں دو پاکستانی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

فائرنگ کے تازہ واقعے کے بعد ایک مرتبہ پھر علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے اور ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ پاکستان نے سرحدی دروازے کی تعمیر کے کام کا دوبارہ آغاز کر دیا ہے۔

٭ ’پاکستان اور افغانستان سے رابطے میں ہیں، تشدد نہیں چاہتے‘

٭ طورخم کا تنازعہ سفارت کاری سے حل کرنے پر اتفاق

٭ ڈیورنڈ لائن سے بارڈر مینیجمنٹ تک

ادھر پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان معاملات بات چیت کے ذریعے حل کریں اور یہ کشیدگی پاکستان اور افغانستان کی دوستی کی روح کے منافی ہے جس کی بنیاد ایک ہی مذہب، ثقافتی اقدار اور عوام درمیان مضبوط رشتوں پر ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے بیان کے مطابق سرتاج عزیز نے سرحد پر افغان افواج کی جانب سے مسلسل بلااشتعال فائرنگ پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے پاکستانی فوج کی جانب سے اپنی حدود کے اندر سرحدی انتظام کی کوششوں میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب پائیدار امن اور استحکام سرحدی کنٹرول کو مضبوط کرنے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

سرتاج عزیز نے امید ظاہر کی کہ افغانستان سکیورٹی معاملات خصوصاً دونوں ممالک کی سرحد پر نگرانی کا موثر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے معاملے میں پاکستان سے تعاون کرے گا۔

پاکستان نے اسلام آباد میں تعینات افغان سفیر کو طلب کر کے افغان فوج کی فائرنگ سے پاکستانی فوج کے میجر علی جواد خان کی ہلاکت پر شدید احتجاج کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق بدھ کو افغان سفیر عمر زاخیلوال کو وزارتِ خارجہ میں طلب کیا گیا جہاں سیکریٹری خارجہ اعزاز چودھری نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انھوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ بلااشتعال فائرنگ کا سلسلہ بند کروانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

طورخم کی صورتحال

طورخم میں مامور خیبر ایجنسی کے پولیٹیکل تحصیلدار غنچہ گل نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بدھ کی صبح سحری کے وقت پاکستان اور افغانستان کے فورسز کے درمیان ایک مرتبہ پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں فرنٹیئر کور کے دو اہلکار زخمی ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے منگل اور بدھ کی درمیانی رات کو بھی فریقین نے ایک دوسرے کے مورچوں پر گولہ باری کی تھی تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

تحصیلدار کے مطابق جس وقت فائرنگ کا سلسلہ بند ہوا اس کے فوراً بعد پاکستان نے سرحدی دروازے کی تعمیر کا کام پھر شروع کر دیا۔

ان کے مطابق پاکستان کی کوشش ہے کہ جلد سے جلد سرحدی گیٹ کی تعمیر مکمل کر لے تاکہ سرحد پار سے غیر قانونی آمدورفت کو روکا جائے اور اسے قانونی بنایا جائے۔

ادھر اس کشیدگی کی وجہ سے طورخم سرحد کے دونوں جانب لوگوں اور گاڑیوں کی آمد رفت گذشتہ چار دنوں سے معطل ہے جس سے سرحدی علاقوں میں سینکڑوں افراد پھنس ہوکررہ گئے ہیں۔

لنڈی کوتل کے مقامی صحافی ولی خان شنواری نے بی بی سی کو بتایا کہ طورخم بازار اور آس پاس کے دیہات میں بدستور چوتھے روز بھی غیر اعلانیہ طورپر کرفیو نافذ ہے جس سے تمام بازار اور چھوٹے بڑے تجارتی مراکز بند ہیں۔

انھوں نے کہا کہ کرفیو کے باعث طورخم بازار کی طرف آنے جانے والے تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ سڑکوں پر سکیورٹی اہلکار گشت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption آئی ایس پی آر کی جانب سے گیٹ کی تعمیر کے حوالے سے جاری کی گئی تصویر

ولی ِخان شنواری کے مطابق سرحد کی بندش کے باعث سامان سے لدے سینکڑوں ٹرکوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں جبکہ زیادہ تر ٹرک واپس پشاور کی طرف لوٹ گئے ہیں۔

پشاور میں مقیم افغان شہری عالم زیب شیرزاد پائلٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طورخم کے اس طرف افغان علاقوں میں ہزاروں افراد گذشتہ چار دن سے اس نتظار میں ہیں کہ کب سرحد کھلے اور وہ پاکستان میں داخل ہوجائیں۔

انھوں نے کہا کہ سرحدی کشیدگی کی وجہ سے دونوں طرف لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے تاہم اس ضمن میں افغانیوں کو زیادہ مسائل کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق افغانستان سے پاکستان آنے والوں میں اکثریت مریضوں کی ہوتی ہے جو علاج کی غرض سے یہاں آتے ہیں تاہم جب سے سرحد بند ہوئی ہے مریضوں کے مشکلات مزید بڑھی ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کی رات پاکستان اور افغان فورسز کے درمیان سرحدی گیٹ کی تعمیر پر جھڑپوں کا آغاز ہوا تھا جس میں اب تک ایک پاکستانی فوجی افسر اور ایک افغان فوجی ہلاک جبکہ متعدد سکیورٹی اہلکار اور شہری زخمی ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں