برطانوی رکن پارلیمان فائرنگ سے ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جو کوکس سنہ 2015 میں دارالعوام کی رکن منتخب ہوئیں تھیں

انگلینڈ میں پولیس کے مطابق ایک رکن دارالعوام فائرنگ اور چھریوں سے کیے جانے والے حملے میں ہلاک ہوگئی ہیں۔

41 سالہ جو کوکس کا تعلق لیبر پارٹی سے تھا۔

اس حملے میں ایک 77 سالہ شخص کو بھی معمولی چوٹیں آئی ہیں۔

ویسٹ ورکشائر پولیس کا کہنا ہے کہ برسٹل کی مارکیٹ سٹریٹ سے ایک 52 سالہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے انھیں اس حملے میں ملوث کسی اور کی تلاش نہیں ہے۔

لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربائن کا کہنا تھا کہ ملک ’اس خوفناک قتل پر سکتے‘ میں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آنے والے دنوں میں یہ سوال اٹھائے جائیں گے کہ ان کی کیسے اور کیوں موت ہوئی۔‘

ایک کیفے کے مالک کلارک روتھویل جو اس واقعے کے عینی شاہد ہیں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’غبارہ پھٹنے جیسی آواز سنی۔‘

’جب میں نے مڑ کر دیکھا تو ایک آدمی جو 50 کے پیٹے میں تھا جس کے سر پر سفید بیس بال والی ٹوپی تھی اور جیکٹ پہنے ہوئے تھا اور اس کے ہاتھ میں پستول تھی، جو پرانے زمانے کی پستول دکھائی دیتی تھی۔‘

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی جو کوکس کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جو کوکس بٹلے میں پیدا ہوئی تھیں اور سنہ 2015 میں دارالعوام کی رکن منتخب ہوئیں۔

انھوں نے ہیکمنڈوائک گرامر سکول کی تعلیم حاصل کی تھی اور سنہ 1995 میں کیمبرج یونیورسٹی سے گریجویشن کی۔