رمضان میں کھانے کا فتویٰ، سوشل میڈیا پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ KHALED DESOUKI

رمضان کے مہینے میں جو لوگ روزہ رکھتے ہیں ان کے ذہنوں ميں کھانے سے متعلق نظم و ضبط بہت اہم ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مصر میں اس سے متعلق جب ایک بڑے عالم نے فیس بک پر اپنا فتویٰ جاری کیا تو لوگوں نے بڑے جذباتی انداز میں اس پر اپنا رد عمل ظاہر کیا۔

حکومت کی جانب سے فتویٰ جاری کرنے والے ادارے درالافتا نے پانچ جون کو روزے کے دوران سبھی مذاہب کے لوگوں کو سختی سے عوامی جگہوں پر کھانے سے منع کرنے کے لیے لکھا تھا۔

ادارے نےاس فتوے کو اپنے فیس بک صفحے پر بھی پوسٹ کیا تھا۔

اس پوسٹ ميں کچھ یوں لکھا تھا: ’رمضان میں دن کے وقت کھانے پینے کا نظم ایک شخص کی اپنی آزادی کے دائرے سے باہر ہے۔ یہ ایک طرح کی سرکشی اور اسلام کے تقدس پر حملہ ہے۔ رمضان میں دن کے وقت عوامی سطح پر کھانا کھانا گناہ کے مترادف ہے۔ یہ جہاں ممنوع ہے وہیں اسلامی ممالک میں اس سے عوامی مزاج اور اسلامی شعار کی توہین ہوتی ہے۔ اس سے معاشرے کی حرمت اور اس کے قابل احترام عقائد کے حقوق کی صریحاً خلاف ورزی ہوتی ہے۔‘

اس پوسٹ کو پانچ ہزار سے زیادہ لوگوں نے جہاں شیئر کیا وہیں دس ہزار سے زیادہ لوگوں نے لائیک بھی کیا۔ تاہم بہت سے لوگوں نے اس پر ناراضی کا بھی اظہار کیا ہے۔

بعض لوگوں نے لکھا کہ اس فتوے کا مواد ’فاشسٹ‘ نوعیت کا ہے اور یہ خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے سخت گیر موقف کی ترجمانی ہے۔

ایک مصری شخص نے اس پر اپنے رد عمل میں لکھا: ’کیا یہ وہی عقیدہ ہے جس کی آپ تبلیغ کرنا چاہیں گے؟ کیا آپ خدا کے الفاظ پر عمل کے لیے تشدد پھیلانا چاہتے ہیں؟۔ اگر خدا نے لوگوں کو آزادی دے رکھی تو پھر آپ ان پر مذہب کے لیے زبردستی کرنے والے کون ہوتے ہیں۔‘

بعض دوسرے لوگ اس پوسٹ سے اس لیے ناراض تھے کیونکہ اس میں ان لوگوں کا خيال نہیں رکھا گيا جو روزے نہیں رکھتے ہیں، جیسے عیسائی وغیرہ۔

ایک شخص نے تبصرہ کیا: ’کیا مصر صرف مسلمانوں کے لیے محدود ہے؟ یہاں تو مسلمان، عیسائی اور وہ لوگ بھی رہتے ہیں جن کا کوئی مذہب ہی نہیں ہے۔‘

بعض مصریوں نے اس پوسٹ کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا کہ تو پھر ان باتوں کا خیال اس وقت بھی رکھا جائے جب عیسائی برادری کے لوگ روزہ رکھتے ہیں۔

لیکن بہت سے لوگوں نے اس پوسٹ کی حمایت کی اور اس پر ہونے والی بحث پر حیرت کا اظہار کیا۔

ایک شخص نے اپنے تبصرے میں لکھا: ’اسلامی قوانین کے مطابق رمضان کے دوران ایک مسلمان کے لیے عوامی سطح پر کھانا مکروہ مانا جاتا ہے کیونکہ اس سے ان لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے جو روزہ رکھتے ہیں۔ لیکن جن لوگوں کا تعلق دوسرے مذاہب سے ہے انھیں کھلے عام کھانے اور پینے کا حق حاصل ہے۔‘

اس تنازع پر بحث صرف سوشل میڈیا میں ہی نہیں بلکہ ٹی وی پر بھی ہونے لگی۔ مبصرین اور انسانی حقوق کے علمبراداروں کی جانب سے اس پر خوب تبصرے ہوئے۔

مصر میں رمضان کے مہینے میں اس طرح کا تنازع کوئی نئی بات نہیں ہے۔

اسی برس جون میں سکیورٹی فورسز نے ان کیفوں کو بند کر دیا تھا جو رمضان میں دن کے وقت کھلتے تھے۔ اس پر لوگوں نے سوشل میڈیا پر کافی نکتہ چینی کی تھی۔

رمضان کے مہینے میں بیشتر عرب ممالک میں لوگ بلا امتیاز مذہب و ملّت دن میں عوامی سطح پر کھانے سے گریز کرتے ہیں۔

سعودی عرب، متحدہ عرب عمارت اور قطر جیسے کئی عرب ممالک میں تو اس طرح کے قوانین ہیں جس کے تحت اس دوران مسلمانوں کے لیے کھانا پینا ممنوع ہے اور ایسا کرنے پر انھیں سزا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں