’مستقبل کی لہر ہے اسے روکا نہیں جا سکتا‘

Image caption بصرہ کے اس ٹائمز سکوائر میں لوگ آزادے کے ساتھ لطف اندوز ہوتے ہیں

بصرہ کا نام سن کر ہی اداسی محسوس ہوتی ہے یہ وہ شہر ہے جہاں 2003 میں امریکی حملے کے بعد برطانوی فوج نے حالات مستحکم کرنے کے لیے چار سال گزارے اور یہیں اسلامی ملیشیا کے حملوں میں درجنوں برطانوی جوانوں نے اپنی جانیں گنوائی۔

دس سال بعد بھی بصرہ پر ایرانی حمایت یافتہ اسلامی سیاسیت دانوں کی حکمرانی ہے۔ بصرہ کی سڑکیں خاک آلودہ ہیں اور نہریں کوڑے کرکٹ سے بھری ہیں بمباری سے تباہ شدہ عمارتیں ابھی تک کھنڈر ہیں، بندرگاہ بند ہے اور وہاں موجود جہازوں کو زنگ لگ چکا ہے۔

مجھے اس وقت شدید حیرانی ہوئی جب ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ کیوں نہ آج کی شام بصرہ کے ایک نئے شاپنگ مال میں گزاری جائے۔

میں نے حیران ہو کر پوچھا بصرہ میں ’شاپنگ مال‘۔

میرے دوست نے بتایا کہ یہ مال حال ہی میں کھلا ہے۔جس کا نام ہے بصرہ ٹائمز سکوائر

ہم جب وہاں پہنچے تو پارکنگ میں چمکتی، دمکتی بڑی بڑی گاڑیاں تھیں یہ مال بصرہ کی ویران تصویر کے بالکل برعکس ہے۔

مال میں زبردست روشنیوں میں بڑے بڑے سٹور ، فیشن بوتیکس، میک اپ کے بڑے بڑے برانڈ کی دکانیں، امریکی طرز کے فاسٹ فوڈ سٹورزاور اٹیلین آئس کریم سمیت بہت کچھ تھا۔

اتنا ہی نہیں مال میں بڑی تعداد میں لوگ آ رہے تھےجن میں مرد بچے خواتین سبھی شامل تھے۔

یہاں حواتین نے ابایا جیسے روایتی کپڑے بھی نہیں پہنے تھے اور نقاب پوش خواتین نے اپنے سکارف کندھوں پر ڈالے ہوئے تھے۔

مردوں اور عورتوں کے لیے ایک ساتھ دکانیں تھیں اور کچھ نوجوان جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گھومتے دکھائی دیے۔

Image caption یہاں لوگ انتہائئ خوشگوار ماحول میں اپنے گھر والوں کے ساتھ لطف اندوز ہوتے نظر آ رہے تھے

مال میں صرف تیسری منزل پر ایک ہی جگہ بندوقیں نظر آئیں جہاں بچوں کے فن فیئر میں شوٹنگ کا مقابلہ ہو رہا تھا۔

لوگ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ خوشگوار ماحول میں تفریحی کر رہے تھے، بچے رائڈز سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔

میں نے عراق میں اتنے سال کے اپنے دوروں میں ایسا ماحول پہلے نہیں دیکھا تھا۔

مجھے لگا کہ میں ایک غیر معمولی منظر دیکھ رہا ہوں یہ صرف ایک شپنگ مال نہیں بلکہ ’رواداری کا مندر‘ لگ رہا تھا جہاں عراقی خاص طور پر نوجوان آزادی کے ساتھ زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ہم اس طرح خود کو دنیا کا ایک حصہ محسوس کرتے ہیں۔

میں نے اپنےعراقی دوست سے کہا کہ مغربی انداز کی یہ علامت بصرہ کے رجعت پسندوں کے لیے برطانوی فوج سے بھی بڑا خطرہ ہو سکتی ہے۔

میرے دوست نے کچھ دیر سوچ کر کہا کہ یہ مستقبل کی لہر ہے اسے روکا نہیں جا سکتا ۔

اسی بارے میں