امریکی فوج کے خلاف جاپانی جزیرے پر احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جاپان کے جزیرے اوکیناوا میں بڑی تعداد میں امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف مظاہرہ کرنے کے لیے لوگ اکھٹے ہو رہے ہیں۔

مظاہرین ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں ایک 20 سالہ مقامی خاتون کے ریپ اور قتل پر شدید غصے میں ہیں۔ امریکی فوجی جو اب ایک سویلین کے طور پر کام کررہا تھا اسے گرفتار کر لیا گيا ہے۔

خیال رہے کہ اوکیناوا میں 26000 امریکی اہلکار موجود ہیں۔ اس واقعے نے مقامی افراد کی جانب سے بہت عرصے سے جاری اس مطالبے کو مزید بڑھا دیا ہے جس میں وہ امریکی فوجیوں کا انخلا چاہتے تھے۔

اس احتجاجی مظاہرے کا آغاز اتوار کومقتول رینا شمابوکورو کی یاد میں چند لمحے خاموشی کے ساتھ کیا گیا۔ جس کے بعد ان کے والد ان کے والد کی جانب سے ایک پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔جس میں انھوں نے کہا کہ’ کیوں میری بیٹی کو کیوں مارا گیا؟‘

’میرے خیالات بھی ویسے ہی ہیں جیسے ان خاندانوں کے ہیں جنھوں نے اب تک مصیبتیں دیکھی ہیں۔‘

مظاہرے میں شریک 71 سالہ خاتون ’چہیرو اوچی مارا‘ کا فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’مجھے بہت دیکھ ہے، میں نہیں چاہتی کہ کوئی اور اس طرح کے واقعے کا شکار بنے۔ ‘

اوچی مارا کا مزید کہنا تھا کہ ’ جب تک امریکی فوجی اڈے یہاں موجود رہیں گے اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔‘

رواں سال مارچ میں جاپان کے وزیر اعظم شنزو ابے نے اوکیناوا میں متنازع امریکی فوجی اڈے کو منتقل کرنے کے لیے شروع کیے جانے والا تعمیراتی کام معطل کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس وقت کے بیان میں وزیر اعظم ابے نے کہا کہ وہ عدالتی ثالثی سے طے پانے والے اس معاہدے کو قبول کرتے ہیں جو مقامی حکام اور مرکزی حکومت کے درمیان طویل تنازعے کے بعد طے پا سکا ہے۔

حکومت امریکی فوتینما فوجی اڈے کو گنجان آبادی والے علاقے سے نکال کر دور دراز کے کسی دوسرے علاقے میں منتقل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن مقامی حکام اور وہاں کے رہائشی اس فوجی اڈے کو پوری طرح سے ختم کرنے کے حق میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY

امریکی فوج اس جزیرے کے پانچویں حصے پر تعینات ہے اور یہ امریکہ اور جاپان کے درمیان سکیورٹی شراکت داری کا اہم حصہ ہے۔

ناہا ریلی میں اوکیناوا کے گورنر تاکیشی اوناگا کی شرکت بھی متوقع ہے۔

مظاہرین امریکی بحریہ کے جہازوں کو جزیرے کے مرکز سے دور کے علاقوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کریں گے۔ تاہم گورنر اور مقامی افراد چاہتے ہیں کہ فوتینما بیس کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔

اوکیناوا کے جزیروں پر کئی فوجی اڈے ہیں جہاں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے ایک دفاعی معاہدے کے تحت 26 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

سنہ 1995 میں امریکی فوجیوں نے وہاں ایک 12 برس کی لڑکی کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی جس کے بعد سے امریکی فوجیوں کی موجودگی خلاف شدید مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔

1945 میں اتحادی افواج نے دفاعی نقطۂ نظر سے اہم اس جزیرے کو جاپان کے خلاف حملے کے آغاز کا مقام تصور کیا تھا۔ تاہم اس جزیرے سے اتحادیوں نے حملہ شروع نہیں کیا تھا کیونکہ اگست 1945 میں ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹمی بم گرنے کے بعد جاپان نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

1972 تک اوکیناوا پر امریکی فوج کا قبضہ رہا۔

اسی بارے میں