ترک سیاحت کی ڈوبتی صنعت

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay Koraltan

برطانوی سیاحوں کا ایک گروپ تالاب میں واٹر پولو کھیل رہا ہے اور وہ جتنا چاہے انچی آواز میں چیخ سکتا ہے کیونکہ وہاں کوئی اور مہمان موجود نہیں ہیں جو ان کے چیخنے سے پریشان ہو سکیں۔

انطالیہ کے قریب کیمر میں فور سٹار گارڈن ریزورٹ بیرگاموت سال کے ان دنوں میں 70 فیصد بھرا ہونا چاہیے لیکن کل 233 میں سے صرف 25 کمرے ہی لیے گئے ہیں۔

ریزورٹ کے مالک سوہا سین کا کہنا ہے ’ہم نے اپنے سٹاف کی تعداد 80 سے 50 تک کم کر دی ہے جبکہ قیمتوں میں بھی تین گنا کمی آئی ہے۔‘

’اگر آئندہ سال بھی ایسا ہی رہا تو شاید ہمیں یہ ریزورٹ بند کرنا پڑ جائے۔‘

شمالی ویلز سے آئے ڈیان رابرٹس کا کہنا ہے ’ہم نے دو لوگوں کا پیکج ایک ہفتے کے لیے 500 پاؤنڈز سے کچھ زیادہ دے کر حاصل کیا ہے۔ یہ ترکی کے لیے سب سے سسٹی ڈیل تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay Koraltan

ان کا کہنا تھا ’ہمیں امید نہیں تھی لیکن لوگ یہاں آتے ہوئےڈرتے ہیں۔‘

یہ انطالیہ اور پورے ملک کی تصویر ہے۔ ترکی کی سیاحت بحران کا شکار ہے۔ ایک ایسا ملک جو سنہ 2014 میں 37 لاکھ سیاحوں کی میزبانی کر چکا ہے مگر رواں سال سیاحوں کی تعداد میں 40 فیصد کمی ہونے کا خدشہ ہے۔

سب سے زیادہ کمی روسی شہریوں کی وجہ سے آئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 45 لاکھ روسی ترکی کا دورہ کرتے تھے لیکن اب ان کی تعداد میں تقریباً 95 فیصد کمی آئی ہے۔

ترکی کی جانب سے نومبر میں روسی ملٹری طیارے کو ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے بعد مار گرانے کے بعد سے یہ کمی دیکھی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay Koraltan

دو مضبوط رہنماؤں ولادی میر پوتن اور رجب طیب اردوغان میں اب بھی سرد مہری پائی جاتی ہے حالانکہ طیب اردوغان نے رواں ہفتے روس کے قومی دن کے موقع پر پیغام بھیجا تھا جس کا مقصد زخموں کو بھرنا ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی میں گذشتہ سال ہونے والے سلسلہ وار بم حملوں کی وجہ سے بھی لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے۔

ترکی میں آنے والے برطانوی اور جرمن سیاحوں کی تعداد میں بھی تین گنا کمی ہوئی ہے۔

انطالیہ کے پرانے قصبے میں دکاندار اس امید پر اپنی دکانوں کے باہر بیٹھیے ہیں کہ شاید کوئی گاہک آ جائے، لیکن وہ بھی نہیں آ رہا۔

استقلال سوک گذشتہ 30 سالوں سے ترکی میں جیولری کی دکان چلا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay Koraltan

ان کا کہنا ہے ’جتنے حالات اب خراب ہیں اسے پہلے کبھی نہیں تھے۔ہاں ہمارے مرکزی شہروں میں دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں لیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہماری حکومت اور صدر اوردغان ہیں۔‘

’اردوغان ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن قائم نہیں رکھتے اور ملک کا نام خراب کر رہے ہیں۔ ہمارے پاس حکومت نہیں ہے۔ ہمارے بس ایک ہی شخص ہے جو سب کچھ کرتا ہے اور وہ ہے اردوغان، اسی لیے سب کچھ الٹ ہے۔‘

بیلک کبھی روسیوں کی بڑی تعداد والا علاقہ ہوتا تھا لیکن وہاں کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔ ایک ٹوور آپریٹر پیگس انطالیہ میں ایک دن میں روسیوں سے بھرے 19 طیارے لے کر آتا تھا۔ اب حال یہ ہے کہ اس کمپنی کو سٹاف کے عملے میں سے تین ہزار کو نکالنا پڑا۔

ڈیلفن امپیریئل ہوٹل اور نجی ساحل جہاں پہلے کبھی روس کے سیاحوں کا رش لگا رہتا تھا اب وہاں روسی زبان کا ایک لفظ بھی سننا مشکل ہوگیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Goktay Koraltan

اس پر تعیش مقام کو نیو یارک کے کریسلر ٹاور کے ڈیزائن پر تعمیر کیا گیا اور اس کے فرنیچر پر سونے کا پترا لگا ہوا لیکن پھر بھی امیر روسی یہاں سے دور ہیں اور یہ ہوٹل صرف 40 فیصد بھرا ہوا ہے۔

انطالیہ ہوٹل ایسوسی ایشن کے بورڈ ممبران میں شامل ٹولگو کامرتاوغلو کا کہنا ہے ’میرا خاندان 40 سالوں سے سیاحت میں ہے لیکن میں نے ایسا پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ہم بہت نیچے چلے گئے ہیں، میں سوچنا بھی نہیں چاہتا کہ اگر اس سے بھی برا ہوا تو کیا ہوگا۔‘؟

اسی بارے میں