برطانوی رکن پارلیمان کے قتل کا ملزم عدالت میں پیش

تصویر کے کاپی رائٹ Julia Quenzler
Image caption ہمیشہ کی طرح یہ سماعت بھی مختصر تھی لیکن اس میں ایک موقع انتہائی اہم تھا۔ جب تھامس سے ان کا نام پوچھا گیا

برطانوی رکن پارلیمان جو کوکس کے قتل کے ملزم سنیچر کو عدالت میں پیش ہوئے جس کے بعد انھیں مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ملزم تھامس میئر جب ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش ہوئے تو انھوں نے اپنا نام بطور ’ڈیتھ ٹو ٹریٹر، فریڈم فار بریٹن‘ یعنی (غداروں کی موت، برطانیہ کے لیے آزادی‘ کے دیا۔

خیال رہے کہ 41 سالہ جو کوکس کو جمعرات کے روز ویسٹ ورکشائر میں برسٹل کے مقام پر گولی اور چھریوں کے وار کرکے قتل کیا گیا تھا۔

٭ برطانوی رکن پارلیمان فائرنگ سے ہلاک

٭ جو کوکس برطانیہ کو سوگوار کر گئیں

سنیچر کو جو کوکس کے خاندان والوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وہاں آنے والے لوگوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے خراج تحسین کا شکریہ ادا کیا۔

جو کوکس کی بہن کم لیڈبیٹر نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے اپنی بہن کو ’کامل شخصیت‘ قرار دیا۔

کم لیڈبیٹر نے کہا کہ ’میری بہن کے لیے جو خراج تحسین پیش کیا گیا اس سے واضح فرق پڑا ہے اور ہمیں اس صدمے سے نکلنے میں مدد ملی ہے۔‘

’جو کوکس چاہتی تھیں کہ ہم اس پر غور کریں جو ہمیں متحد کرتا ہے نہ کہ اس پر جو ہمیں الگ کرے۔ وہ دنیا میں اچھے لوگوں کے ذریعے زندہ رہیں گیں۔‘

تھامس میئر پر جی بی ایچ، یعنی مجرمانہ اقدام کرنے کی نیت سے ہتھیار رکھنے اور جو کوکس پر حملہ کرنے کے حوالے سے بھی ہتھیار رکھنے کے بھی الزامات ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جو کوکس کی بہن کم لیڈبیٹر نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے اپنی بہن کو ’کامل شخصیت‘ قرار دیا

انھیں جب اس سے قبل عدالت میں پیش کیا گیا تو انھوں نے سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہن رکھا تھا اور انھوں نے اپنا اصل نام بتانے سے انکار کیا تھا۔ جب ان سے ان کے پتے اور تاریخ پیدائش کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔

تھامس میئر کو اب پیر کے روز اولڈ بیلے عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

تھامس میئر کی پہلی پیشی کے لیے جس مقام کا انتخاب کیا گیا وہ لندن میں مجسٹریٹ عدالت میں سب سے اہم ہے۔

نشریاتی اداروں، سنڈے نیوزپیپرز اور غیر ملکی نمائندوں سے عدالت کی پریس نشستیں بھری ہوئی تھیں۔

ہمیشہ کی طرح یہ سماعت بھی مختصر تھی لیکن اس میں ایک موقع انتہائی اہم تھا۔ جب تھامس سے ان کا نام پوچھا گیا۔

انھوں نے جواب دیا:’میرا نام غداروں کی موت اور برطانیہ کی آزادی ہے۔‘ جب ان سے دہرانے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے یہی الفاظ دہرائے۔

اس کے بعد وہ تب تک خاموش رہے جب تک انھیں جیل لے جایا گیا۔

اسی بارے میں