ریو اولمپکس سے 50 روز قبل مالی ایمرجنسی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پانچ اگست سے ریو میں اولمپکس ہونے والے ہیں

برازیل کی ریاست ریو ڈی جنیرو نے ملک میں ہونے والے ریو اولمپکس کے آغاز سے صرف 50 دن پہلے مالی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

عبوری گورنر فرانسسکو ڈورنیلیس نے کہا ہے کہ ریاست کو ’شدید مالی بحران‘ کا سامنا ہے جس کی وجہ سے اولمپکس گیمز کے متعلق اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

اولمپکس کے لیے زیادہ تر پبلک فنڈنگ ریو کی شہری حکومت کی جانب سے ہوئی ہے لیکن ریاست ٹرانسپورٹ اور پولیس کے لیے ذمہ دار ہے۔

دوسری جانب برازیل کے عبوری صدر مائیکل ٹرنر نے قابل قدر مالی تعاون کا وعدہ کیا ہے۔

فرانسسکو ڈورنیلیس نے اس بحران کا ذمہ دار ٹیکس میں کمی کو ٹھہرایا ہے خاص طور پر تیل کی صنعت سے جب کہ برازیل کو مجموعی طور پر شدید مندی کا سامنا ہے۔

ریو ریاست کے ملازمین کی تنخواہیں اور پینشنز گذشتہ کئی ماہ سے ادا نہیں کی گیئیں اور اس سے ہسپتال اور پولیس سٹیشنز شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption زیکا وائرس سے بھی اولمپکس متاثر ہو سکتا ہے

گورنر ڈورنیلیس نے ایک فرمان میں کہا ہے کہ ریاست کو عوامی آفت کا سامنا ہے اور اس سے سکیورٹی، صحت اور تعلیم جیسی سرکاری خدمات مکمل طور پر بیٹھ سکتی ہیں۔

انھوں نے ضروری سرکاری خدمات کے سلسلے میں اولمپک گیمز سے قبل غیرمعمولی اقدامات کیے جانے کا کہا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

ریاست نے رواں سال کے بجٹ میں ساڑھے پانچ ارب امریکی ڈالر کے خسارے کی بات کہی ہے۔

ریو کے میئر ایڈوارڈو پائس نے ٹوئٹر پر کہا کہ ریاست کے فیصلے سے اولمپکس پروجیکٹس کی تکمیل اور ریو سٹی کی جانب سے کیے جانے والے وعدے میں کوئی تاخیر نہیں ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پبلک ٹرانسپورٹ، طبی اور تعلیمی خدمات کے متاثر ہونے کی بات کہی گئی ہے

اولمپکس کے دوران ریو پانچ لاکھ بیرونی لوگوں کی آمد کی امید رکھتا ہے۔

اسی بارے میں