بحرین: ممتاز شیعہ عالم کی شہریت منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تحت کسی بھی شخص کو اس کی شہریت سے محروم نہیں کیا جاسکتا

بحرین کے سرکاری میڈیا کے مطابق حکومت نےملک کے ممتاز شعیہ عالم شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں شیخ عیسیٰ قاسم پر غیر ملکی طاقتوں کے مفاد میں کام کرنے اور ملک میں فرقہ واریت اور تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔

آیت اللہ قاسم ملک کی اکثریتی شعیہ آبادی کی جانب سے شہری اور سیاسی حقوق کے لیے چلائی جانے والی تحریک کی حمایت کرتے آئے ہیں۔

بحرین کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آیت اللہ عیسیٰ قاسم ’ ملک دشمن تنظیموں اور جماعتوں سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی منشور کے تحت کسی بھی شخص کو اس کی شہریت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن بحرین کے قانون کے تحت حکومت ہر اس شخص کی شہریت منسوخ کر سکتی ہے جو ’ سلطنت کے مفاد کو نقصان پہنچائے یا وفاداری کی ذمہ داری کو صیح طریقے سے نہ نبھائے۔‘

گزشتہ ہفتے بحرینی حکومت نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی حزبِ اختلاف کی تنظیم وفاق نیشنل اسلامک سوسائٹی کو بند کرنے اور اُن کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بحرین میں سنی مسلک تعلق رکھنے والے شاہی خاندان کی حکومت ہے جبکہ ملک کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

آل وفاق شیعہ مسلمانوں کی ترجمانی کرنے والا سب سے بڑا سیاسی گروپ ہے جس کے خیال میں بحرین میں شیعہ افراد کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

تنظیم کے سربراہ شیخ السلمان اس وقت جیل میں نظر بند ہیں اور گذشتہ ماہ اُن کی سز کو دوگنا کر کے نو سال کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں