روس: جھیل میں کشتیاں الٹنے سے بچوں سمیت 14 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس پارٹی بوٹ یا کشتی پر سوار بچوں کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان تھیں

شمالی روس کے علاقے کیریلیا میں سیاموزیور جھیل میں طوفان کے باعث کشتیاں الٹنے سے 14 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے۔

بچ جانے والے 37 افراد میں سے زیادہ تر جھیل میں ایک جزیرے پر پہنچ گئے جبکہ دیگر ایک گاؤں سے ملے ہیں۔

یہ بچے ماسکو سے چھٹیوں پر یہاں آئے تھے۔

اس علاقے کے میئر سرگے سوبیانین نے اس مقام پر ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات کو بھیجا ہے۔

اس کے علاوہ چار افراد کو حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے شبہے میں حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

سرگے سوبیانیننے اس واقعے کے بعد اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’کیریلیا میں ایک بڑا حادثہ پیش آیا ہے۔ میں ہلاک ہونے والوں کے خاندان والوں اور دوستوں کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔‘

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 15 منٹ پر ایک اطلاع ملی کہ چھٹیوں پر آنے والے 47 بچے اور چار نوجوان سیاموزیور جھیل میں طوفان کے باعث لا پتہ ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ www.mchs.gov.ru
Image caption بچ جانے والے 37 افراد میں سے زیادہ تر جھیل میں ایک جزیرے پر پہنچ گئے جبکہ دیگر ایک گاؤں سے ملے ہیں

جس کے بعد جائے وقوعہ پر امدادی کارکنوں کو کشتیوں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بھیجا گیا۔

اتوار کی شام تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ متاثرین میں تمام بچے شامل تھے۔ ان افسران نے ساتھ ہی اس سے قبل ایک نوجوان کی ہلاکت کی خبر کی تردید بھی کی۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس پارٹی بوٹ یا کشتی پر سوار بچوں کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان تھیں جو کہ جھیل کے کنارے ایک مشہور سیاحتی مقام پر سمر کیمپ میں رہ رہے تھے۔

کشتی میں ہونے والی اس تقریب میں 49 سے 51 کے قریب افراد سوار تھے جس وقت یہ طوفان آیا۔

پولیس ذرائع نے رشیئن ٹیبلائڈ لائف نیوز کو بتایا کہ بچ جانے والی ایک 12 سالہ لڑکی نے مقامی گاؤں پہنچ کر اس واقعے کے بارے میں اطلاع دی تھی۔

یولیا نامی اس لڑکی نے بتایا کہ یہ گروپ دو کشتیوں اور ایک جہاز پر سوار تھا جب یہ طوفان آیا اور یک بحری جہاز جھیل میں الٹ گیا۔

اسی بارے میں