امریکہ میں ’گن کنٹرول‘ کی تجاویز مسترد

امریکہ میں سینیٹ نے ملک میں آتشیں اسلحہ محدود کرنے کے لیے پیش کی گئی مختلف تجاویز رد کر دی ہیں جن میں زیر نگرانی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل افراد کو اسلحہ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کیا جانا بھی شامل تھا۔

امریکی ریاست فلوریڈا میں نائٹ کلب پر حملے میں انچاس افراد کی ہلاکت کے واقعہ کے بعد ’گن کنٹرول‘ یا اسلحہ پر پابندی کے بارے میں قانون سازی کے لیے چار تجاویز سینیٹ میں پیش کی گئی تھیں۔

سینیٹ میں حزب اقتدار ڈیموکریٹ اور حزب اختلاف رپبلکن پارٹی کے منتخب اراکین نے اپنی پارٹی کے موقف کے لحاظ سے ہی ووٹ ڈالے اور ایک دوسرے کی تجاویز کی مخالفت کی۔

سینیٹ کے اراکین میں اس مسئلہ پر شدید اختلاف رائے پایا گیا کہ کس طرح حملوں کا مستقبل میں تدارک کیا جائے۔

رپبلکن پارٹی کے سینیٹر جان کورنین نے کہا کہ ’ہمارے ساتھی اس کو گن کنٹرول کا مسئلہ بنا کر پیش کر رہے ہیں جبکہ یہ مسئلہ اسلامی شدت پسندوں کو ختم کرنے کا ہے اور اورلینڈو میں جو کچھ ہوا اس کی جڑ بھی یہ ہی ہے۔

’میرے ساتھی بیماری کو ختم کرنے کے بجائے اس کی علامات کو ختم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔‘

ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک اور رکن سینیٹر باربرا میکیلسکی نے کہا ’ایسا کیوں ہے کہ ہوائی جہازوں پر سوار ہوتے وقت ہماری اتنی سخت تلاشی لی جائے اور دوسری طرف زیر نگرانی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل لوگوں کے اسلحہ خریدنے پر کوئی پابندی نہ ہو۔‘

رپبلکن ارکان اور نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے) کے ممبران نے شکایت کی ہے ڈیموکریٹ ارکان کی طرف سے جو مسودۂ قانون پیش کیا گیا ہے وہ اسلحہ رکھنے کے لوگوں کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا قانون کی پابندی کرنے والے شہری جن کا نام غلط طور پر زیر نگرانی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر لیا جاتا ہے وہ اسلحہ خریدنے سے محروم ہو جائیں گے۔

ڈیموکریٹ اراکین کا کہنا تھا کہ رپبلکن ارکان کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز بہت کمزور ہیں۔

سینیٹ میں ووٹنگ سے آٹھ دن قبل پیر کو امریکی تاریخ کے ایک بدترین پرتشدد واقعہ میں عمر متین نے اولینڈو کے ایک کلب میں انچاس افراد کو ہلاک اور بہت سوں کو زخمی کر دیا۔

عمر متین جو امریکی شہریت رکھتے تھے وہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کی نظر میں سنہ 2013سے تھے لیکن وہ زیر نگرانی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے۔

امریکہ میں اسلحہ فروخت کرنے والوں کو لائسنس وفاقی حکومت کی طرف سے جاری کیے جاتے ہیں۔ ذہنی اور نفسیاتی امراض میں مبتلا اور جرائم میں ملوث افراد کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندی ہے لیکن زیرِ نگرانی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل لوگوں کے لیے ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس وقت زیر نگرانی دہشت گردوں کی فہرست میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کے نام شامل ہیں۔

اسی بارے میں