ترکی: آزادئ صحافت کے حامیوں پر فرد جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرول اوندروغلو آرایس ایف کے ساتھ دو دہائیوں سے منسلک ہیں

ترکی کی ایک عدالت نے تین افراد کو ’دہشت گردوں کے لیے پروپيگنڈے‘ کا مجرم قرار دیا ہے جن میں رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کا ایک نمائندہ بھی شامل ہے۔

عدالت نے آر ایس ایف کے نمائندے ارول اوندراوغلو، صحافی احمد نسین اور ماہر تعلیم شبنم کرور فنجان چی کو گرفتار کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

٭ ترک صحافیوں کے خلاف مقدمے کی سماعت کا آغاز

٭ ترکی: صحافیوں کی گرفتاری پر یورپی یونین کی تنقید

یورپی یونین کے انقرہ پر دباؤ کے باوجود یہ گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور آر ایس ایف نے کہا ہے کہ ’ترکی میں پریس کی آزادی ناقابل یقین حد تک کم ہوئی ہے۔‘

خیال رہے کہ یورپی یونین نے انقرہ سے ماہر تعلیم اور صحافیوں کو نشانہ بنانے سے باز رہنے کے لیے کہا تھا۔

ان تینوں افراد نے مبینہ طور پر کرد نواز اخبار ’اورغز غندیم‘ کے لیے حمایتی مہم میں شرکت کی تھی۔

ترک میڈیا کے مطابق ان تینوں افراد نے ایک دن کے لیے اس اخبار کے چیف ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ترکی میں پریس کی آزادی پر تشویش ظاہر کی جاتی ہے

آر ایس ایف کے مشرقی یورپ اور مرکزی ایشیا ڈیسک کے سربراہ یوحان بہر نے کہا ’یہ ترکی میں میڈیا کی آزادی کا ایک اور سیاہ دن ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اوندراوغلو کو ترکی کے جنوب مشرقی کرد علاقوں میں سکیورٹی آپریشنز اور ان کے درمیان آپس کی چپقلش کے بارے میں تین مظامین لکھنے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

انھوں نے دو دہائیوں تک آر ایس ایف کے لیے کام کرنے والے صحافی کو ’اس چیز کا شکار بتایا جس کی وہ ہمیشہ مذمت کرتے رہے۔‘

ماہر تعلیم شبنم کرور ترکی میں ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ ہیں اور احمد نسین معروف صحافی ہیں۔

آر ایس ایف نے عالمی سطح پر آزادئ صحافت کی فہرست میں ترکی کو 180 ممالک میں 151ویں نمبر پر رکھا ہے۔

آزادئ صحافت کے لیے سرگرم کارکنوں نے متبنہ کیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی میں ڈرامائی گراوٹ آئی ہے اور صحافیوں، تعلیم کے شعبوں سے منسلک لوگوں اور سیاستدانوں کے خلاف مقدمات عام ہیں۔

مئی میں ترکی کی عدالت نے دو معروف صحافیوں کو سرکاری راز افشا کرنے کے جرم میں جیل کی سزا سنائی تھی جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے پر وسیع پیمانے پر تنقید ہوئی تھی۔

اسی بارے میں