ڈیموکریٹ اراکین نے امریکی کانگریس میں دھرنا دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Max Matza
Image caption جب ایوان کے کیمرے بند ہو گئے تو ارکان نے سوشل میڈیا پر اپنا احتجاج نشر کرنا شروع کر دیا

امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان نے اس وقت تک ایوانِ نمائندگان سے نکلنے سے انکار کر دیا ہے جب تک آتشیں اسلحے پر کنٹرول کا قانون منظور نہ ہو جائے۔

ایک سو کے قریب قانون ساز احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کر رہے ہیں کہ مشتبہ دہشت گردوں کو اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے ان کے پسِ منظر کی وسیع تر چھان بین کی جائے۔

اسی ماہ فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ایک نائٹ کلب میں ایک حملہ آور نے 49 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔

امریکہ میں 25 برس میں فائرنگ کے بدترین واقعات

دوسری جانب سینیٹر مصالحت کے لیے تیار ہیں، اور سینیٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ ہیری ریڈ رپبلکن پارٹی کی ایک تجویز کی حمایت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ رپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کے پیش کردہ مجوزہ قانون کے حامی ہیں کیونکہ اس سے ان لوگوں کو اسلحے کی فروخت روکی جا سکے گی جن کا نام دہشت گردی کی کسی نہ کسی فہرست میں شامل ہے۔

ہیری ریڈ نے ایک بیان میں کہا: ’یہ ایک چھوٹا قدم سہی، لیکن آگے کی جانب ایک قدم ضرور ہے۔‘

کانگریس میں رپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے اور اس کے اراکین نے احتجاج کے دوران وقفے کا اعلان کر دیا جس کے بعد کیمرے بند ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اورلینڈو حملے کے بعد امریکہ میں اسلحے پر کنٹرول کی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی تھی

اس کے جواب میں احتجاجی اراکین اپنا پیغام آن لائن لے گئے۔ بعض اراکین نے ٹوئٹر پر تصاویر اپ لوڈ کیں جب کہ ایک کانگریس مین پیری سکوپ پر براہِ راست ویڈیو نشر کر رہے ہیں۔

اس احتجاج کی قیادت جان لیوس کر رہے ہیں۔

فلوریڈا میں ہونے والے حملے کے بعد سے سینیٹ میں چار مسودۂ قانون نامنظور کیے جا چکے ہیں، لیکن توقع ہے کہ ہفتے کو سینیٹ میں ایک مصالحتی مسودۂ قانون پیش کر دیا جائے گا جسے دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل ہو گی۔

صدر اوباما نے ٹوئٹر پر جان لیوس کا شکریہ ادا کیا ہے۔

قانون سازوں نے ’جب تک قانون منظور نہیں ہوتا، کوئی وقفہ نہیں ہو گا ‘ کے نعرے لگائے۔

لیوس نے سوال کیا: ’اس ادارے نے (تشدد کے خلاف ردِ عمل کے طور پر) کیا کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ ہم نے بےگناہوں کے خون کے سامنے خود کو بےحس بنا لیا ہے۔ اور کتنی مائیں، اور کتنے باپ غم کے آنسو بہائیں گے؟‘

کنیٹیکٹ سے تعلق رکھنے والے رکنِ ایوان جان لارسن نے کہا: ’ہم اس ایوان پر قبضہ کر لیں گے۔‘

دوسری طرف رپبلکن پارٹی کے سپیکر پال رائن کے ایک ترجمان نے ٹوئٹر پر کہا: ’اگر ارکان ادارے کے قواعد کی پیروی نہیں کریں گے تو ادارہ کام نہیں کر سکے گا۔‘

قانون ساز اس ہفتے کے اختتام سے پہلے پہلے کسی قسم کی ووٹنگ چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں