نیویارک میں داڑھی چھوٹی نہ کرنے پر پولیس افسر معطل

Image caption پولیس افسر مسعود سید سے منگل کے روز جب ان کے باس نے داڑھی چھوٹی کرنے کو کہا تو سید نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انھیں معطل کر دیا گیا

امریکہ کے شہر نیو یارک کے محکمۂ پولیس نے ایک مسلم پولیس افسر کو اپنی داڑھی چھوٹی نہ کرنے کی وجہ سے معطل کر دیا ہے۔

مذکورہ پولیس افسر نے عدالت میں محمکہ پولیس اور نیویارک شہر کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

پولیس افسر مسعود سید سے منگل کے روز جب ان کے افسر نے داڑھی چھوٹی کرنے کو کہا تو سید نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا جس کے بعد انھیں معطل کر دیا گیا۔

نیویارک کے محکمہ پولیس میں کام کرنے والوں کو داڑھی رکھنے کی ممانعت ہے لیکن مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لیے رعایت کے طور پر ایک ملی میٹر تک لمبی داڑھی رکھنے کی اجازت ہے۔

لیکن مسعود سید ایک ملی میٹر کے بجائے ایک انچ تک لمبی داڑھی رکھنا چاہتے ہیں اور اس کو وہ اپنی مذہبی آزادی مانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیویارک کے محکمہ پولیس میں کام کرنے والوں کو داڑھی رکھنے کی ممانعت ہے لیکن مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لیے رعایت کے طور پر ایک ملی میٹر تک لمبی داڑھی رکھنے کی اجازت ہے

ان کے وکیل نے بدھ کو مرکزی عدالت میں بتایا تھا کہ منگل کو مسعود سیّد کو اس وقت معطل کیا گیا جب انھوں نے باس کے کہنے کے باوجود اپنی داڑھی کو تراش کر چھوٹی کرنے سے انکار کر دیا۔

اس معاملے میں عدالت نے محکمہ پولیس کو حکم دیا ہے کہ جب تک مقدمے کا فیصلہ نہ آ جائے تب تک مسعود سید کی تنخواہ جاری رکھی جائے۔

مسعود سید عدالت کے اس فیصلے سے خوش ہیں اور طویل قانونی جنگ کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’میں جج کے فیصلے سے بہت خوش ہوں۔ یہ ایک درست فیصلہ ہے۔ اور مجھے لگتا ہے ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں لیکن اب آگے ایک طویل قانونی راستہ طے کرنا ہے۔‘

مسعود سید کہتے ہیں کہ انہیں محکمہ پولیس میں سے بہت سے ساتھیوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مسعود سید کہتے ہیں کہ انہیں محکمہ پولیس میں سے بہت سے ساتھیوں کی حمایت بھی حاصل ہے

مسعود ایک وکیل بھی ہیں اور وہ محکمہ پولیس میں گذشتہ 10 برسوں سے کام کر رہے ہیں اور اس وقت وہ لاء کلرک کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔

اس سے قبل مسعود نے ایک ملی میٹر تک لمبی داڑھی رکھنے کی اجازت محکمہ پولیس سے حاصل کر لی تھی اور انھیں گذشتہ برس دسمبر تک کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی۔

لیکن جب ان کی داڑھی ایک ملی میٹر کی حد سے بڑھ گئی تو ان سے داڑھی چھوٹی کرنے کو کہا گیا۔

اس کے بعد سے ہی وہ محکمہ پولیس سے لمبی داڑھی رکھنے کی رعایت حاصل کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کرتے رہے لیکن کامیابی نہیں ملی۔

مسعود سید دیگر مذاہب کے ماننے والے پولیس افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ محکمے میں بہت سے افسر تو ایک ملی میٹر سے لمبی داڑھی رکھتے ہیں۔

سن 2013 میں مینہیٹن کی ایک عدالت کے جج نے ایک یہودی پولیس افسر کی لمبی داڑھی کے معاملے میں نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کی ’نو بيئرڈ‘ یا ’داڑھی نہیں‘ کی پالیسی کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت پولیس افسر کے حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت ہر شخص کو امریکہ میں اظہار کی اور مذہبی آزادی کا حق ہے۔

مسعود سید کا دعویٰ ہے کہ نیویارک کے محکمۂ پولیس میں کم از کم 100 ایسے پولیس افسر موجود ہیں جنھیں لمبی داڑھی رکھنے کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

مسعود سید کے وکیل جوشوا مسكاوٹز کہتے ہیں: ’ہم نے مقدمہ اس لیے دائر کیا ہے کہ اس سے داڑھی لمبی ہونے کی وجہ سے محمکہ پولیس میں پریشانی کا سامنا کرنے والے تمام افسروں کو فائدہ مل سکے۔ ہم داڑھی کے سلسلے میں محکمہ پولیس کی پالیسیوں میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

نیویارک شہر کی انتظامیہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ مسعود سید کی داڑھی محکمہ پولیس کے قوانین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ ایک ملی میٹر کی جو حد نافذ ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ پولیس اہلکار اپنی ڈیوٹی کے دوران چہرے پر گیس ماسک صحیح طریقے سے پہن سکیں۔

32 سالہ مسعود سید کو 30 دنوں کے لیے بغیر تنخواہ کے معطل کیا گیا تھا۔ اور اگر وہ داڑھی چھوٹی کرنے سے انکار کرتے رہیں گے تو انھیں محکمہ پولیس کے قانون کے تحت ملازمت سے برخاست بھی کیا جا سکتا ہے۔

اب عدالت میں اس کیس کی اگلی پیشی 8 جولائی کو ہوگی جس میں جج یہ طے کر سکتے ہیں کہ کیا مسعود سید محکمہ پولیس کے کام میں لمبی داڑھی کے ساتھ واپس جا سکتے ہیں یا نہیں۔

اسی بارے میں