’برادری‘ چھوڑنے سے کیا فرق پڑے گا

Image caption گرین لینڈ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے والا پہلا ملک تھا

اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب کوئی ملک یورپی برادری سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کا کیا اثر پڑتا ہے تو پھر آپ گرین لینڈ میں رہنے والے کسی باشندے سے پوچھیے۔

گرین لینڈ وہ واحد ملک ہے جو یورپی برادری (یوپین اکنامک کمیونٹی) سے علیحدہ ہو چکا ہے، اور یہ سنہ 1985 میں ہوا تھا۔

گرین لینڈ کے رہائشی جن میں انویٹ باشندے بھی شامل ہیں ان کا یورپی یونین سے الگ ہونا کا فیصلہ اچھا ثابت ہوا لیکن وہ تو صرف مچھلی درآمد کرتے ہیں۔

کیا الگ ہونے کا فیصلہ برطانیہ کے لیے بھی سود مند ثابت ہو گا یا ہمارے ذاتی سرمائے کا مستقبل ایک طویل مندی ہے۔

اس کا اندازہ لگانے کے لیے سب سے اہم چیز سٹرلنگ کی قدر ہو گی۔

سب کو یہ توقع ہے کہ مستقبل قریب میں پاؤنڈ کی قدر میں کافی کمی واقع ہو گی۔ جیسے ہی یہ خبر آئی کہ برطانیہ نے یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی اور ایک موقعہ پر اس کی قدر دس فیصد تک کم ہوگئی جو سنہ 1985 کے بعد اب تک اتنی کم نہیں ہوئی تھی۔

ممکنہ طور پر اس کا نتیجہ یہ ہو گا:

  • دوسرے ملکوں سے اشیاء اور سروسز کا حصول زیادہ مہنگا ہو جائے گا۔
  • افراط زر کی شرح میں اضافہ ہو جائے گا۔
  • دوسرے ملکوں کو فروخت کی جانے والا اشیاء خریداروں کے لیے سستی ہو جائیں گی۔
  • لہذا ہم سب کے گھریلو بجٹ پر اس کا اثر پڑے گا

گھروں کے قرضے یا مارگیج

افراط زر کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے بینک آف انگلینڈ شاید شرح سود میں اضافہ کرنے پر غور کرے۔ اس کی وجہ سے گھروں کے قرضے یا ’مارگیج‘ اور بینکوں سے لیے گئے قرضے مہنگے ہو جائیں۔ وزارتِ خزانہ کی پیش گوئی ہے کہ شرح سود میں 0.7 فیصد سے 1.1 فیصد تک سرمائے کی قیمت میں اضافہ ہو گا اور وزیر اعظم کیمرون کا کہنا ہے گھروں کے قرضے (مارگیج) میں ایک ہزار پاؤنڈ سالانہ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

گھروں کے مالکان کے اخراجات بڑھیں گے تو گھروں کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو گا۔

لیکن اس کے ساتھ ہی یہ امکان بھی ہے کہ اگر معیشت کو شدید دھچکا لگتا ہے تو بینک آف انگلینڈ کو شرح سود میں مزید کمی کرنی پڑ جائے۔ اس صورت میں بینکوں سے سرمایہ یا قرضے سستے داموں ملیں گے اور شرح سود موجودہ سطح پر رہے گی۔

گھروں کی قیمتیں

بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے سے گھروں کی قیمتوں میں شدید کمی واقع ہو گی۔ یہ ان توقعات کی بنا پر کہا جا رہا ہے کہ مارگیج کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اگلے دو برسوں میں گھروں کی قیمتوں میں دس سے اٹھارہ فیصد تک کمی ہو گی۔ پہلی مرتبہ گھر خریدنے والوں کے لیے یہ ایک اچھی خبر ہو گی لیکن یہ موجودہ مالکان کے لیے بہت اچھی خبر نہیں ہے۔

جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والوں کی قومی تنظیم (این اے ای اے) کا خیال ہے کہ لندن میں گھروں کی قیمت میں زبردست کمی ہو گی اور اوسطً ایک گھر کی قیمت اگلے تین برس میں ساڑھے سات ہزار پاؤنڈ کم ہو جائے گی اُس سطح کے مقابلے میں جہاں اُنھیں تین برس بعد ہونا تھا۔ انگلینڈ کے دوسرے علاقوں میں گھروں کی قیمتوں میں اوسطً دو ہزار تین سو پاؤنڈ تک کی کمی ہو سکتی ہے۔

لیکن اگر بینک آف انگلینڈ شرح سود میں کمی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے تو یہ سب اندازے غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔

تنخواہیں اور اجرتیں

بہت سے اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ معیشت کو پہنچنے والے دھچکے کی وجہ سے ملک میں بے روز گاری بڑھنے کا امکان ہے۔ اس سے تنخواہوں میں اضافے کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ تنخواہوں میں 2.8 فیصد سے 4 فیصد تک کمی ہو سکتا ہے اور ایک عام کارکن کی آمدنی سالانہ 780 پاؤنڈ تک کم ہو جائے گی۔

لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ برطانیہ اگلے دو برس تک یورپی یونین کا رکن رہے گا اور عام حالات میں بھی معیشت کے بارے میں دو سال کی مدت تک اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔

سرکاری امداد

اگر آپ یہ دلیل مان لیں کہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد معاشی ترقی کی رفتار کم ہو جائے گی، کم از کم مستقبل قریب میں، اور اس وجہ سے حکومت کی آمدن بھی کم ہو جائے گی اور اس کے پاس خرچ کرنے کے لیے بھی کم پیسے ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق سنہ 2019 اور سنہ 2020 تک حکومت کی محصولات میں 38 ارب پاؤنڈ سے لے کر 44 ارب پاؤنڈ تک کی کمی ہو سکتی ہے۔

کیونکہ برطانیہ کے بجٹ کا 28 فیصد فلاح پر خرچ ہوتا ہے لہذا کا حکومت کی آمدنی میں کمی کا یقیناً اثر لوگوں کو سرکاری سے ملنے والی سہولیات پر بھی پڑے گا جن میں ٹیکس کریڈٹس اور دیگر ادائیگیاں شامل ہیں۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف شوشل اینڈ اکنامک رسرچ کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ خاندانوں کو 2771 پاؤنڈ تک کا سالانہ نقصان ہو سکتا ہے۔

ٹیکس

ریفرنڈم سے صرف دو ہفتے قبل وزیر خزانہ جارج اوسبورن نے کہا تھا کہ یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے کا ایک اثر ٹیکس میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی ٹیکس میں دو پینی کا اضافہ ہو سکتا جو اس وقت پاؤنڈ میں 20 پینی ہے اور اضافی ٹیکس میں تین پینی کا اضافہ ہو سکتا جو اس وقت پاؤنڈ میں 40 پینی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وراثت کے ٹیکس میں پانچ پینی کا اضافہ ہو سکتا ہے جو اس وقت 40 پینی ہے۔

موجودہ حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی کے لیے سیاسی طور پر ایک مشکل فیصلہ ہو گا کیونکہ اس نے انتخابات میں اس کے بالکل برعکس وعدہ کیا تھا۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ حکومت اپنی بچت کی پالیسی کو سنہ 2020 سے آگے لیے جائے گی۔ انسٹی ٹیوٹ آف فسکل سٹڈیز کے مطابق اخراجات کو مزید دو برس تک کم رکھنا پڑے گا۔

ریفرنڈم کے دوران یورپی یونین سے علیحدگی کے حامیوں نے اپنی مہم میں کہا تھا کہ ایندھن پر پانچ فیصد ٹیکس جو یورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ ایک شرط تھی اسے ختم کر دیا جائے گا۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ ایسا کب اور کسی طرح کیا جائے گا۔

پینشن

ریفرنڈم کی مہم کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ یورپی یونین سے علیحدہ ہونے سے پینشن پر ’ٹرپل لاک‘ کا نظام خطرات کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے تحت پینشن کی شرح میں آمدن میں اضافے کی شرح، افراد زر کی شرح یا پھر ڈہائی فیصد سالانہ کی شرح جو بھی زیادہ ہو اس کے حساب سے بڑھائی جاتی ہے۔

اس کا انحصار بھی کمزور معیشت اور کم قومی آمدن پر ہے۔

بچت اور سرمایہ کاری

شرح سود میں اضافے کی کوئی بھی خبر بچت کرنے والے کے لیے خوش آئند ہو گی۔ لیکن ریفرنڈم کی مہم کے دوران وزارتِ خزانہ نے کہا تھا کہ یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کرنے کی صورت میں برطانوی حصص غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے بہت زیادہ پر کشش نہیں رہیں گے اور ان کی قدر میں کمی واقع ہو گی۔

طویل المدت میں یہ صورت حال ایسی نہیں رہے گی۔ حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا دار و مدار کمپنی کے منافعوں پر ہوتا ہے۔ پاؤنڈ کی قدر میں کمی سے برآمدات میں اضافہ ہو گا اور کمپنیوں کا منافع بھی بڑھے گا جبکہ درآمدات میں کمی ہو گی۔

سیر و سیاحت

پاؤنڈ کی قیمت میں کمی سے یورپ میں چھٹیاں گزارنا مہنگا ہو جائے اور رہائش کے لیے زیادہ رقم ادا کرنی پڑے گی۔

ڈیوڈ کیمرون نے دعوی کیا تھا کہ پاؤنڈ کی قیمت میں کمی کی وجہ سے چار افراد کا چار راتوں کا قیام تقریباً 230 پاؤنڈ تک مہنگا ہو جائے گا۔

لیکن جہازوں کے کرایوں کا انحصار فضائی کمپنیوں پر ہو گا کہ وہ بنیادی قیمت یورو میں متعین کرتے ہیں یا پاؤنڈ میں۔

موبائیل فون:

یورپ میں موبائل فون استعمال کرنا بھی مہنگا ہو جائے گا۔

برطانیہ کی فون کمپنیوں بی ٹی اور وڈا فون یورپی یونین میں رومنگ چارجز کی جو حد مقرر ہے وہ شاید برقرار نہ رہے۔

لیکن حقیقت میں یہ مستقبل کی برطانوی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ پورپی یونین میں موبائل فون پر جو شرائط عائد ہیں ان کو اپنانے کا فیصلہ کرتی ہیں یا نہیں۔

اسی بارے میں