کولمبیا: پانچ دہائیوں کے بعد باغیوں کے ساتھ جنگ بندی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فریقین میں حتمی اور مکمل جنگ بندی کا معاہدہ آئندہ چند ہفتے میں متوقع ہے اور موجودہ معاہدے کے اعلان کو اسی سمت میں آخری قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے

کولمبیا کی حکومت اور فارک باغیوں نے آپس میں جنگ بندی کا ایک تاریخی معاہدہ کیا ہے جس سے دونوں گذشتہ پانچ عشروں سے جاری تنازع کے خاتمے کے مزید قریب پہنچ گئے ہیں۔

فریقین میں حتمی اور مکمل جنگ بندی کا معاہدہ آئندہ چند ہفتے میں متوقع ہے اور موجودہ معاہدے کے اعلان کو اسی سمت میں آخری قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

فارک باغیوں اور حکومت کے درمیان امن مذاکرات کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں تین برس قبل شروع ہوئے تھے جس کے نتیجے میں فریقین اتنے قریب آنے میں کامیاب ہوئے۔

لیکن ابھی جنگ بندی کب سے شروع ہوگی اس بارے میں معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ جنـگ بندی کا نفاذ آخری اور حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد ہوگا جس کی آئ‏ندہ جولائی میں ہونے کی توقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کولمبیا میں اس معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے

کولمبیا کے صدر جان مینیول سانٹوز نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ حتمی معاہدہ جولائی کے اواخر تک متوقع ہے۔

جمعرات کو جو معاہدہ ہوا ہے اس کے مطابق حتمی معاہدے کے بعد فارک باغیوں کو 180 روز میں ہتھیار ڈالنے ہوں گے۔ اس کے تحت تقریباً 7000 مسلح باغیوں کے لیے عارضی ٹرانزیشن زون اور کیمپس قائم کیے جائیں گے۔

معاہدے کے اعلان کے وقت فارک کے باغی رہنما روڈرگ لنڈونو نے کہا کہ اسے جنگ کا آخر دن سمجھا جائے۔

کولمبیا کے صدر نے اس موقع پر اسے تاریخی دن کہا۔ ان کا کہنا تھا: ’ہم 50 برس سے جاری ہلاکتوں، حملوں اور درد کے خاتمے کے پاس پہنچ گئے ہیں۔ یہ فارک کے ساتھ جاری مسلح جد و جہد کا خاتمہ ہے۔‘

Image caption مارکسی نظریے کی حامل بائیں بازو کی باغی جماعت فارک نے سنہ 1964 سے مسلح جنگ چھیڑ رکھی ہے جس میں ایک تخمینے کے مطابق دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں

مارکسی نظریے کی حامل بائیں بازو کی باغی جماعت فارک نے سنہ 1964 سے مسلح جنگ چھیڑ رکھی ہے جس میں ایک تخمینے کے مطابق دو لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ان میں سے اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

کولمبیا کا سب سے بڑا گوریلا گروپ سمجھے جانے والے فارک باغی حکومت کے ساتھ گوریلا جنگ میں ملوث رہے ہیں۔

حکومت اور باغیوں کے درمیان کشیدگی کے دوران ہلاکتوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن حکومتی اندازوں کے مطابق 1960 میں شروع ہونے والے اس تنازعے میں تقربیاً چھ لاکھ افراد ہلاک اور تقریباً تیس لاکھ بے گھر ہوگئے۔

اسی بارے میں