ریفرینڈم کا نتیجہ: برطانوی وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون یورپی یونین میں شامل رہنے کے حق میں تھے

برطانوی عوام کی جانب سے یورپی یونین سے اخراج کے حق میں فیصلہ سامنے آنے کے بعد برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

جمعہ کو لندن میں 10 ڈاؤئنگ سٹریٹ پر ایک پریس کانفرنس میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ اکتوبر میں اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔

٭ برطانوی عوام یورپی یونین سے علیحدگی کے حامی

٭ 1985 کے بعد پاؤنڈ کم ترین سطح پر

انھوں نے کہا کہ اکتوبر میں کنزرویٹو پارٹی کانفرنس کے آغاز کے موقع پر ملک میں ایک نیا وزیراعظم ہونا چاہیے۔

برطانیہ میں جمعرات کو ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

اس نتیجے کی صورت میں برطانیہ یورپی یونین کو الوداع کہنے والا پہلا ملک بن جائے گا تاہم علیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں ہے۔ اس عمل میں کم از کم دو برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

وزیرِاعظم کیمرون نے کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں ملک کو سنبھالنے کے لیے کام کریں گے لیکن اُن کے خیال میں یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کا عمل ایک نئے کپتان کی سربراہی میں شروع ہونا چاہیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کو اب ایک نئے وزیراعظم کی ضرورت ہے جو یورپی یونین سے اخراج کے عمل کا آغاز کرے اور اُسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ اگرچہ یورپی یونین سے علیحدگی وہ راستہ نہیں جس پر وہ چلنے کا مشورہ دیتے لیکن وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ برطانیہ یورپی یونین کے بغیر رہ سکتا ہے۔

انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ برطانیہ کو اُس کا راستہ تلاش کرنے کے عمل میں جو ممکن ہو سکے گا کریں گے۔

کیمرون کا کہنا تھا کہ یہ اُن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اُن حالات میں ملک کی قیادت کریں جبکہ عوام نے اُس موقف کی حمایت کی ہے جس کے وہ مخالف تھے۔

انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے عوام کی خواہشات کا احترام کیا جانا چاہیے اور ملک کو ایک مضبوط اور پرعزم قیادت کی ضرورت ہے جو یورپ میں برطانیہ کے آنے والے کردار پر بات کرے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ہمیں اب یورپی یونین سے بات چیت کے لیے تیار ہونا ہو گا جس کے لیے سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی ایئر لینڈ کی حکومتوں کو مکمل ساتھ دینا ہو گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ برطانیہ کے تمام حصوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔

اسی بارے میں