یورپی رہنما برطانوی ’علیحدگی‘ پر بحث کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں

Image caption برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون (دائیں) اور یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ینکر کی راہیں اب جدا جدا

یورپی رہنما برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو جمعرات کو ہونے والے تاریخی ریفرینڈم کے بعد ’علیحدگی‘ کے مضمرات پر بحث کے لیے بدھ کو سر جوڑ کر بیٹھیں گے۔

برطانوی عوام کی اکثریت نے یورپی یونین سے الگ ہونے کے حق میں ووٹ دیا ہے، جب کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ اکتوبر میں عہدے سے الگ ہو جائیں گے۔

برطانیہ کے بغیر یورپی یونین کے رہنماؤں کا پہلا اجلاس بدھ کو منعقد ہو رہا ہے اور یونین نے برطانیہ سے کہا ہے کہ وہ الگ ہونے کے لیے مذاکرات جلد شروع کر دے۔

٭ ’برطانیہ اب جانے میں دیر نہ کرے‘

٭ برادری چھوڑنے سے کیا فرق پڑے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یورپی کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ہنکر نے زور دے کر کہا کہ ’یونین کے بقیہ 27 ارکان ساتھ جاری رکھیں گے۔‘

برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کی خبروں کے بعد دنیا بھر میں بازارِ حصص میں مندی دیکھنے میں آئی اور برطانوی پاؤنڈ عشروں کی ریکارڈ سطح تک گر گیا۔

جمعے ہی کو یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو پارٹی کی اندرونی جھڑپوں نے ای یو کو ’مجموعی طور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔‘

ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اس ’مبینہ طلاق کے عمل‘ پر برطانیہ کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ملک بدھ کو بات چیت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جرمن چانسلر نے اس فیصلے پر ’سخت افسوس‘ کا اظہار کیا ہے

یورپی رہنماؤں کا ردعمل

جرمنی: چانسلر انگلیلا میرکل نے ’سخت افسوس‘ کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’یہ یورپ اور یورپی وحدت کے عمل کے لیے دھچکہ ہے۔‘

فرانس: فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ اس سے ’یورپ ایک سخت امتحان میں مبتلا ہو گیا ہے۔‘

اٹلی: وزیرِ اعظم ماتیو رینزی ہفتے کو صدر اولاند سے ملاقات کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا: ’یورپ ہمارا گھر ہے، اس گھر کو مرمت اور بہتری کی ضرورت ہے۔‘

روس: صدر ولادی میر پوتن نے کہا کہ یہ نتیجہ نقلِ مکانی اور سلامتی کی صورتِ حال سے برطانیہ کی ناخوشی ظاہر کرتا ہے۔

ترکی: صدر رجب طیب اردوغان نے کہا کہ اگر یورپی یونین نے اپنے طور طریقے ٹھیک نہیں کیے تو دوسرے ملکوں کا بھی یونین کو خیرباد کہنا ناگزیر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بی بی سی کی یورپ ایڈیٹر کیٹیا ایڈلر کا تجزیہ

میں نے یورپ میں اس قدر غیریقینی صورتِ حال پہلے کبھی نہیں دیکھی۔

برسلز میں غم و غصے کی کیفیت ہے، اور یورپ بھر کی حکومتیں ڈری ہوئی ہیں۔ انھیں بھی اپنے ملکوں میں ووٹروں کی جانب سے اسی قسم کے سوالات کا سامنا ہے جو برطانوی ریفرینڈم میں سامنے آئے ہیں۔

یورپی یونین اس قدر تشویش میں مبتلا ہے کہ اب وہ برطانیہ کے ساتھ ایک نئے معاہدے کی شرائط اور نظام الاوقات پر سختی برتنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کا مقصد برطانیہ کو سزا دینے سے زیادہ دوسرے ملکوں کے نکلنے کے عمل کو زیادہ تکلیف دہ بنانا ہے۔

اسی بارے میں