’اب یورپی یونین اپنی شرائط پربات کرےگی‘

برطانوی عوام کی اکثریت کا ریفرنڈم میں یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ تو سنا دیا لیکن برطانیہ کو یورپی یونین سے نکلنے میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے؟ اور کیا برطانیہ یورپی یونین سے اپنی ہی شرائط پر نکلنے اور ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنے میں کامیاب ہو سکے گا؟

Image caption میں سجاد کریم کا کہنا ہے کہ یورپ کو اب دائیں بازو کی جماعتوں کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو گا اور وہ کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں جو کہ یورپ کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔

یورپی پارلیمان کے رکن سجاد کریم کے مطابق برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد یورپی یونین اب برطانیہ سے اپنی شرائط پر بات کرے گی اور شرائط وہ ہوں گی جو کہ یورپ کے لیے موزوں ہوں نہ کہ برطانیہ کے لیے۔ان کا کہنا تھا کہ ’یورپی یونین اب ڈرائیونگ سیٹ میں آ کر کنٹرول سنبھالے گی۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال آئینی بحران سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اب برطانیہ کو یورپی یونین کی مرضی سے مذاکرات کا ایجنڈا اور شرائط طے کرنا ہوں گی۔

برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے کے بعد پاؤنڈ کی قدر میں کمی آئی ہے جب کہ سٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان ہے۔ بینک آف انگلینڈ اور آئی ایم ایف ریفرینڈم سے پہلے ہی ان خدشات کا اظہار کر چکے تھے کہ اگر برطانیہ یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلے کرتا ہے تو برطانوی معیشت افراط زر کا شکار ہو سکتی ہے۔

لیکن برطانوی ہوم آفس کے وزیر وزیر لارڈ طارق احمد کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر برطانوی عوام کے اس فیصلے کے لیے بھی تیار تھے۔بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کی حکومت کی اولین ترجیح یہی ہے کہ معیشت کو مستحکم رکھا جائے تا کہ برطانیہ کی مارکیٹ پر اعتماد قائم رہے۔

Image caption برطانوی ہوم آفس کے وزیر وزیر لارڈ طارق احمد کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر برطانوی عوام کے اس فیصلے کے لیے بھی تیار تھے

یورپی یونین کے معاہدے کے آرٹیکل 50 کے تحت کوئی بھی رکن ملک ای یو چھوڑنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد اس ملک اور ای یو کے درمیان ، یونین چھوڑنے کی شرائط طے کرنا ہونی ہوں گی۔ برطانوی عوام کے فیصلے کے بعد برطانیہ کو دو سالوں کے اندر یورپی یونین سے نکلنا ہوگا۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنا عہدہ چھوڑنے کےاعلان کے ساتھ کہا ہے کہ یورپی یونین سے نکلنے کا اگلا مرحلہ نئے وزیر اعظم شروع کریں گے۔

یورپی یونین چھوڑنے کے بعد بھی برطانیہ کے لیے یہ ممکن ہے کہ اسے یورپ کی آزاد مارکیٹ تک رسائی حاصل رہے گی کیونکہ ناروے کو یورپی یونین کا ممبر نہ ہونے کے باوجود یہ رسائی حاصل ہے۔ لیکن اس بات کا دارومدار اس پر ہے کہ برطانیہ یورپی یونین سے نکلنے کی کتنی بہتر ڈیل حاصل کر سکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برطانیہ کے یورپی یونین چھوڑنے کے فیصلے کے بعد پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے جب کہ سٹاک مارکیٹوں میں بھی شدید مندی کا رجحان ہے

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بعد کنزرویٹو پارٹی کے نئے وزیراعظم کے لیے یورپی یونین سے بہتر ڈیل حاصل کرنا بھی ایک سخت چیلنج ہو گا۔

برطانوی عوام کی اکثریت کے یورپی یونین کو چھوڑنے کے فیصلے کے بعد کیا یورپ کے دیگر ممالک میں دائیں بازو کی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا اور یورپ کے دیگر ممالک میں بھی یورپ سے علیحدگی کی تحریکیں زور پکڑ سکتی ہیں؟

اس سوال کے جواب میں سجاد کریم کا کہنا تھا کہ یورپ کو اب دائیں بازو کی جماعتوں کو کنٹرول کرنا بہت مشکل ہوگا اور وہ کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں جو کہ یورپ کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔

اسی بارے میں