صدر اوباما نے جنوبی ورجینیا میں سیلاب کو آفت قرار دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ورجینیا میں آنے والے سیلاب سے 100 سے زیادہ گھر تباہ ہو گئے ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما نے ریاست ویسٹ ورجینیا میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں 24 ہلاکتوں کے بعد ایسے آفت قرار دیا ہے۔

ریاست کے گورنر ارل رے ٹومبلن نے کہا ہے کہ شدید طوفان اور سیلاب نے ریاست بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔

٭ امریکی شہر ہیوسٹن میں شدید بارشوں سے پانچ ہلاک

٭ امریکہ میں شدید طوفان، ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ریاست کی تین کاؤینلایز میں ناگہانی صورت حال کا اعلان کیا گيا ہے

متاثرہ علاقوں میں سینکڑوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صدر اوباما نے سیلاب، مٹی کے تودے گرنے اور طوفان سے متاثرہ علاقوں میں امداد روانہ کرنے کا حکم دیا ہے۔‘

ریاست کی 55 میں سے 44 کاؤنٹیز میں ناگہانی صورت حال کا اعلان کیا گيا ہے اور تین سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کائنٹیز کاناوا، نیکولس اور گرین برائر میں امداد بھجوائی جا رہی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ یہ سیلاب بعض علاقوں میں صدی کا بدترین سیلاب ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تاحال جاری ہیں اور حکام کو خدشہ ہے کہ سرچ آپریشن کے دوران انھیں مزید افراد بھی مل سکتے ہیں۔

امریکی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ مغربی ورجینیا میں سالانہ طور پر ہونے والی ایک چوتھائی بارش ایک ہی روز میں ہوئی۔

اس سے قبل یہ بتایا گیا تھا کہ ایک شاپنگ سینٹر میں تقریبا 500 افراد پھنسے ہوئے ہیں جنھیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں جب کہ دوسری جگہوں پر امدادی کام جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام کے مطابق سیلاب سے کم از کم 24 افراد ہلاک ہو گئے ہیں

سیلاب سے 100 سے زیادہ گھر تباہ جب کہ طوفان سے 32 ہزار سے زیادہ افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ طوفان اور شدید بارش کے سبب ریاست کے بہت سے علاقوں میں نو انچ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

گورنر نے بتایا ہے کہ نیشنل گارڈ کے 200 فوجی تلاش اور امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔

ایک چرچ کے پادری نے خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ایک آٹھ سالہ بچہ پھسل کر نالے میں گرا اور پانی کے ساتھ بہہ گيا۔

پادری ہیری کروفٹ نے بتایا کہ بچے کی ماں نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن اس کی گرفت کمزور پڑ گئی۔

بچے کی لاش اس کے خاندان کی رہائش سے نصف میل کے فاصلے پر ملی۔

اسی بارے میں