میں دیکھنا چاہتی تھی میرے بیٹے نے آخری سانس کہاں لی

Image caption مورین اور انکے شوہر عراق جنگ کے خلاف تھے

عراق جیسے خطرناک اور انجانے ملک میں سنہری بالوں والی ایک خاتون جنھوں نے سر پر سفید سکارف پہن رکھا تھا اپنے شوہر کا ہاتھ تھامے بصرہ میں اس مقام پر پہنچیں جہاں ان کا فوجی بیٹا ہلاک ہوا تھا۔

مورین بیکر کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس مقام کو دیکھنا چاہتی تھیں جہاں انکے بیٹے نے آخری سانسیں لی ہونگی۔

انکا بیٹا میتھیو برطانوی فوج میں میجر تھا جو 2005 میں اس وقت ہلاک ہوا جب اس کا فوجی دستہ سڑک کے کنارے نصب بم کی زد میں آیا۔

مورین اور انکے شوہر بیکر کو وہاں تک پہنچنے کے لیے گیارہ سال انتظار کرنا پڑا جہاں میتھیو نے دم توڑا تھا۔

بصرہ کے دھول مٹی سے بھرے اس مقام پر انھوں نے ایک کراس رکھا اور اس پر پوپی پھول لگائے۔

میتھیو کے والد بیکر کا کہنا تھا کہ آپ کو معلوم ہے کہ فوجی ملک کے لیے اپنی جان کی قربانی دیتے ہیں لیکن اس سے آپ کا دکھ کم نہیں ہوتا۔

Image caption میتھیو 2005 میں بصرہ میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے

یہ دونوں ابتدا سے ہی جنگ کے خلاف تھے لیکن انھیں معلوم تھا کہ انکا بیٹا ایک فوجی ہے اور فوج ہی اسکی زندگی ہے اس لیے انھوں نے یہ خطرہ مول لیا۔

لیکن ایسے کئی خاندان جنھوں نے اپنے عزیزوں کو اس لڑائی میں کھو دیا وہ یہ حقیقت جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ملک نے یہ جنگ کیوں لڑی۔

14 سال بعد واپس بصرہ کا یہ دورہ میرے لیے عراق سے پینو راما پروگرام کے لیے رپوٹنگ کی ایک انتہا تھی۔

عراق پر سر جان چلکٹ انکوائری سے ایک ہفتے پہلے بصرہ دوبارہ آکر یہ جائزہ لینا کہ یہاں کیا غلطی ہوئی ایک اچھا موقع تھا۔

2003 میں جب برطانوی افواج ہاری ہوئی جنگ لڑنے کے لیے بصرہ میں داخل ہوئیں تو میں فوج کے ساتھ ہی تھی اور چھ سال کی جنگ کے بعد فوج وہاں سے نکل آئی۔

سر جان چلکٹ انکوائری سے ہمیں پتہ چلے گا کہ برطانیہ اس جنگ میں کیوں شامل ہوا، وہاں ہونے والی غلطیوں کے لیے کون ذمہ دار ہے اور ان غلطیوں سے کیا سبق سیکھنا چاہئے۔

اسی بارے میں