مشرق وسطیٰ میں ترکی کی شطرنج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماوی مرمرا نامی امدادی کشتی پر اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں دس ترکی کارکن مارے گئے تھے

اسرائیل اور ترکی کے درمیان نارملائزیشن (معمول پر لانے) کے معاہدہ سے ایک ایسی صورت حال پیدا ہوئی ہے جسے ’نیو نارمل‘ یعنی نیا معمول کہا جاسکتا ہے۔

1990 کی دہائی کے والے قریبی فوجی تعلقات پھر سے قائم نہیں ہو سکیں گے یعنی دونوں ممالک کے درمیان اسلحوں کے بڑے سودے کے امکانات نہیں ہیں۔

تاہم تعلقات میں رسمی بہتری کے تحت دونوں ممالک کے سفیر واپس ہوں گے اور اس میں ترکی کی جانب سے روس کے ساتھ مفاہمت کی حالیہ کوشش بھی شامل ہے۔

صدر رجب طیب اردوغان نے گذشتہ سال نومبر میں شام اور ترکی کی سرحد پر روسی طیارے کے مار گرائے جانے پر ماسکو سے مکمل معافی طلب کی ہے۔

تو پھر وہاں کیا ہو رہا ہے؟ ترکی کے سفیر کیوں جا رہے ہیں؟ اسرائیل اور ترکی کو اپنے باہمی معاہدوں سے کیا حاصل ہوگا؟ اور یہ سب کس طرح سے خطے کی سیاست سے متاثر ہیں؟

اسرائیل اور ترکی دونوں میں جمہوریت ہیں، غیر عرب ممالک اور مغرب نواز امریکہ کے قریبی ممالک ہیں اور اس طرح دونوں فطری فوجی اتحادی ہیں۔

دونوں کے درمیان اہم تعاون ہوا کرتا تھا اور ترکی نے اسرائیل سے کئی اہم اسلحے کے نظام خریدے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2010 کے واقعے کے بعد اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں کشیدگی آ گئی تھی

دونوں کی فضائیہ کے پائلٹ ایک ساتھ تربیت اور مشق کرتے تھے۔

سنہ 2010 میں ہونے والا ماوی مرمرا کے واقعے سے دونوں میں ناچاقی پیدا ہوئی تھی۔ اس واقعے میں اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے ترکی کے پرچم والی ایک امدادی سامان لے جانے والی کشتی میں داخل ہو گئے تھے جو کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے بلاکیڈ کی خلاف ورزی تھی۔

اس واقعے میں کشتی پر سوار دس ترکی امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔ لیکن اس سے قبل سنہ 2002 میں اسلام پسند اے کے پی پارٹی کے حکومت میں آنے کے بعد سے دونوں کے تعلاقات میں سرد مہری آ رہی تھی۔

تو پھر اب کیا بدلا ہے؟

اسرائیل اور ترکی گذشتہ کئی سال سے مفاہمت اور مصالحت کے لیے بات چیت کررہے ہیں جبکہ بہت سے اسرائیلی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جس طرح کا معاہدہ ابھی سامنے آیا ہے وہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو بہت پہلے حاصل کر سکتے تھے۔

لیکن ایک دوسرے پر الزام تراشی، معاوضہ، قومی وقار اور طویل مدتی حکمت عملیاں مل کر تاخیر کا باعث بنیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احمد داؤد اغلو نے خارجہ پالیسی کا بلیو پرنٹ دکھایا تھا

لیکن حالیہ دنوں میں علاقے میں ترکی کی سفارتی حیثیت میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔

مجھے یاد ہے کہ اے کے پی کے حکومت میں آنے کے فورا بعد میں استبول میں احمد داؤد اوغلو سے ملا تھا جو بعد میں ملک کے وزیر خارجہ اور پھر وزیر اعظم بنے۔

وہ ایک دانشور اور مفکر ہیں اور انھوں نے بڑے فخر کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کا خاکہ دکھایا تھا جس کے تحت ملک کی ترقی پذیر معیشت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ صفر مسائل کی سفارتکاری کے ساتھ تیزی سے ترقی کرے گی۔

مشرق وسطی کے طلاطم خیز حالات میں یہ اتنا اچھا تھا کہ اس کا ہونا غیر یقینی تھا اور ایسا ہی ہوا لیکن معاشی ترقی کافی رہی۔

ترکی کے بعض عرب اتحادیوں کو حیرت تھی کہ آیا یہ نیا دولت عثمانیہ تو نہیں۔ خیال رہے کہ پہلی جنگ عظیم سے قبل ترکی خطے میں اہم قوت تھا۔

کرد کشیدگی

شام کے بحران نے ترکی کے حوصلوں کو جسمانی زک پہنچایا ہے۔ ترکی شام کے صدر بشار الاسد کی برطرفی کا سرگرم حامی تھا اور اس نے مختلف گروپس کو اس کام لیے مسلح کیا تھا اور فنڈ فراہم کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption غزہ پٹی کے فروغ میں ترکی کو مخصوص حیثیت دی گئي ہے

اس کی سرگرمی کے نتیجے میں امریکہ سے اس تعلقات میں کشیدگی آئی جو کہ اب علاقے میں بہت سرگرم نہیں رہا اور وہ جنگجو تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کو بشار الاسد کے مستقبل پر ترجیح دے رہا ہے۔

اس طرح دولت اسلامیہ کے خلاف کرد جنگجوؤں کی واشنگٹن کی حمایت نے انقرہ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

ترکی نے شام پر مرتکز اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور اب اس کا زور کرد کے سیاسی عزائم پر لگام لگانا ہے۔

اور اس کے لیے اسے دوستوں کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں روس کے ساتھ رشتہ استوار کرنے کی کوشش اور اسرائیل کے ساتھ معاہد اہم ہے۔

اس کے علاوہ مصر جیسے دوسرے علاقائی پلیئر کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے انقرہ کی جانب سے مزید پس پردہ کوششوں کی امید رکھیں۔

باہمی تعلقات کے تحت ترکی اور اسرائیل کے مضبوط معاشی تعلقات کو فروغ ملے گا اور بحیرۃ روم کی گیس کے لیے ممکنہ پائپ لائن معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔

ترکی کو غزہ پٹی کو فروغ دینے میں مخصوص حیثیت دینے سے اسرائیل کو امید ہے کہ وہ جنوب میں حماس کی جانب سے کسی نئی جنگ سے بچ سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رجب طیب اردوغان نے موسکو سے طیارے کے مار گرانے پر معافی طلب کی ہے

منقسم فلسطینی قیادت کو قائم رکھنا بھی وزیر اعظم نتن یاہو کے حق میں ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر تعلقات کی پھر سے بحالی حیرت کی وجہ نہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ انتشار کا شکار ہے اور آنے والے مستقبل میں ایسا ہی رہے گا۔

اگر امن قائم بھی ہوتی ہے تو ٹوٹے ہوئے ممالک کو ایک ساتھ آنے اور تعمیر نو کے لیے جس سطح کی فنڈنگ چاہیے اس میں برسوں لگیں گے۔

اس میں غیر عرب عوامل اہمیت کے حامل ہیں اور اسرائیل اور ترکی دونوں علاقے میں ایران کے عزائم سے تشویش کا شکار ہیں۔

شام کے بحران نے تہران کے کردار میں صرف اضافہ کیا ہے اور اسرائیل اور ترکی کے لیے باضابطہ بات چیت شروع کرنا دانشمندی ہوگی۔

ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن پر اعتماد کم ترین سطح پر ہے دونوں ممالک ماسکو سے پینگیں بڑھا رہے ہیں کیونکہ شام کے بحران نے خطے میں روس کے کردار کو اہم بنا دیا ہے۔

اسی بارے میں