’ہم امید کر رہے تھے کہ بس یہ آخری دھماکہ ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ترکی کے شہر استنبول کے اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں 36 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایئرپورٹ پر موجود بعض عینی شاہدین نے دھماکوں کے دوران اور ان کے بعد کے حالات کے بارے میں بتایا ہے۔

دھماکوں کے وقت ایئر پورٹ پر موجود جنوبی افریقہ کے دو سیاحوں پال اور سوزی رؤس کے مطابق وہ واپس اپنے ملک جانے کے لیے ایئر پورٹ پر پہنچے تھے۔

انھوں نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا: ’ہم پروازوں کی آمد کے ٹرمینل سے سڑھیوں کے ذریعے اوپری منزل پر روانگی کے ٹرمینل پر پہنچے کہ اس دوران فائرنگ شروع ہو گئی، وہاں ایک شخص فائرنگ کر رہا تھا اور اس نے کالے رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور اس کے ہاتھ میں دستی بم تھا۔¬

حملے میں بچ جانے والے عثمان اکثر کا کہنا ہے ’میں ایئر پورٹ پر اپنے تین سوٹ کیسوں کو ریپ کروا رہا تھا کہ اچانک میں نے دھماکے کی آواز سنی۔ پولیس نے ہمیں نیچے لیٹ جانے کو کہا۔ سوٹ کیسوں پر کور چڑھانے والی مشین کی وجہ سے ہم فائرنگ کے تبادے سے محفوظ رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

انھوں نے بتایا کہ ’پولیس جب کہ پولیس حملہ آوروں پر فائرنگ کر رہی تھی کہ اُس کے بعد ایک اور دھماکا ہوا اور ہمارے ارد گرد تمام افراد اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔‘

ریحارڈ کلنینز اتاترک ایئر پورٹ پر پہنچے ہی تھے کہ انھیں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’ہم مقامی وقت کے مطابق نو بج کر 30 منٹ پر وہاں پہنچے اور پاسپورٹ کنٹرول کاؤنٹر کا جانب گئے کہ اچانک لوگ ہماری طرف بھاگتے اور چیختے آئے اور چلا چلا کر بم اور فائرنگ کہہ رہے تھے۔‘

ریحارڈ کلنینز نے بتایا کہ ’اس دوران ہجوم جمع ہو گیا اور لوگوں نے الٹ سمت میں بھاگنا شروع کر دیا۔‘

’سب لوگ دھماکوں اور فائرنگ کے بارے میں بات کر رہے تھے لیکن تمام کے تمام پھنسے ہوئے تھے اور کوئی بھی واضح طور پر نہیں جانتا تھا کہ ہوا کیا ہے۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ایئرپورٹ اہلکاروں نے کہا کہ ہم ائیر پورٹ سے جا سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

’یہ دھماکے اس جگہ سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہوئے جہاں ہم چھپے ہوئے تھے۔‘

ایک اور عینی شاہد 29 سالہ ول کارٹر کے مطابق : ’پہلے دھماکے کے بعد میں چوکنا ہو گیا لیکن کیونکہ میں جنگ زدہ علاقوں میں اس سے پہلے بطور امدادی کارکن کام کر چکا ہوں اسی لیے یہ نئی بات نہیں تھی میرے لیے۔‘

’میں بہت پریشان تھا کہ اچانک دوسرا دھماکہ ہوا، جس کے بعد میں نے چیخ کر کہا کہ سب ایمرجنسی دروازے کی جانب چلو اور پھر کچھ ہی سکینڈوں کے بعد تیسرا دھماکہ ہوگیا۔

ہم نے دوسری سمت میں بھاگنا شروع کیا اور ایک مقام پر پناہ لی، ہم امید کر رہے تھے کہ بس یہ آخری دھماکہ ہو۔‘

استنبول میں ایک فری لانس صحافی کا کہنا ہے کہ ترک عوام میں تازہ حملوں کے بعد سکیورٹی پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

’بعض لوگ ترکی میں سکیورٹی کی صورتحال پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ پہلا حملہ نہیں ہے اور گذشتہ دنوں میں بہت بہت بہت حملے ہو چکے ہیں۔‘