’عدنان سید کے مقدمے کی ازسرِ نو سماعت کی جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدنان سید نے شروع دن سے بےگناہ ہونے کا مؤقف اپنایا ہے۔

پاکستانی نژاد امریکی شہری عدنان سید کو اپنی گرل فرینڈ ہائی من لی کو قتل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ عدنان سید پر سنہ 2000 میں بالٹی مور میں اپنی گرل فرینڈ ہائی من لی کو قتل کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس کیس کو مشہور پوڈکاسٹ سیریل میں شامل کیا گیا ہے۔

جمعرات کو جج نے کیس کی ازسرنو سماعت کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدنان کے سابق وکیل کیس کے اہم گواہ پر جرح کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

لاکھوں لوگوں نے عدنان کے کیس کی سماعت کو پوڈ کاسٹ، آن لائن براڈکاسٹ اور پبلک ریڈیو کے ذریعے سنا۔

بالٹی مور سرکٹ جج مارٹن ویلچ کا کہنا تھا کہ عدنان کے سابق وکیل کو موبائل ٹاور ایکسپرٹ سے سوال کرنا چاہیے تھا کہ عدنان کے موبائل کو اس کی گرل فرینڈ کی قبر کے قریب دکھانے والا ڈیٹا کتنا قابل اعتبار ہے۔

عدنان کے وکلا کا مؤقف تھا کہ ان کے موکل کے سابق وکلا نے اس اہم گواہ سے رابطہ ہی نہیں کیا جنھوں نے قتل کے وقت عدنان کو کسی اور جگہ دیکھا تھا۔ اس اہم گواہ مس چیپمین کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدنان کو قتل کے وقت لائبریری میں دیکھا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عدنان کے مقدمے کی ازسرنو سماعت کے فیصلے کے بعد ان کے وکیل جسٹن براؤن کا کہنا تھا کہ فیصلہ ان کی جیت ہے

عدنان کے مقدمے کی ازسرنو سماعت کے فیصلے کے بعد ان کے وکیل جسٹن براؤن کا کہنا تھا کہ فیصلہ ان کی جیت ہے اور وہ اب دوبارہ سماعت کے دوران عدنان کی ضمانت پر رہائی کے لیے درخواست دیں گے۔

مس چیپمین نے فروری میں اپنا مؤقف ظاہر کیا تھا جس کے مطابق عدنان سے انھوں نے قتل والے دن لائبریری میں پندرہ منٹ بات چیت کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ کیس کی سماعت کے دوران انھوں نے گواہی دینے کے لیے عدنان کے سابق وکیل سے کئی بار رابطے کی ناکام کوشش کی تھی۔