لندن میں’باڈی امیج ایڈورٹائزنگ‘پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption صحت کے شعبے سے منسلک افراد نے اس پابندی کو خوش آئند قرار دیا ہے

مختصر کپڑوں میں ملبوس دبلی پتلی ماڈلز نہ سکس پیک ایبز کی نمائش کرتے ہوئے مرد!

جمعے سے لندن کے پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک یعنی ٹیوب سٹیشنوں اور بسوں پر ایسے اشتہارات کی نمائش پر پابندی عائد کردی گئی ہے جن میں انسانی جسم کی’غیر صحت مندانہ تصاویر‘ دکھائی گئی ہوں گی۔

یہ اقدام لندن کے نومنتخب میئر صادق خان کی جانب سے اٹھایا گیا ہے جنھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسے اشتہارات پر پابندی کے عزم کا اظہار کیا تھا جس سے لوگوں پر غیرحقیقی اور غیر صحت مندانہ جسم کے حصول کے لیے دباؤ پڑ سکتا تھا۔

صادق خان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کا مقصد خاص طور پر نوجوان لوگوں میں اپنے جسم سے متعلق اعتماد پیدا کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دو نوجوان لڑکیوں کے باپ کی حیثیت سے، میں اس قسم کے اشتہارات کے بارے میں تشویش مند ہوں جو لوگوں کو رسوا کرتے ہیں، خاص طور پر خواتین کو اور انھیں اپنے جسم پر شرمندہ کرتے ہیں۔ یہی وقت ہے کہ اس کا اختتام کیا جائے۔‘

’جسم کی نمائش‘ والے اشتہارات کے خلاف شدید ردعمل گذشتہ سال لندن کے ٹیوب نیٹ ورک میں لگائے جانے والے ایک وزن کم کرنے والی پراڈکٹ کے اشتہار کے بعد سامنے آیا تھا۔

Image caption میئر کے دفتر کے مطابق ہرسال ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں مخصوص جگہوں پر 12000 اشتہار لگائے جاتے ہیں

وزن کم کرنے والی مصنوعات بنانے والی کمپنی پروٹین ورلڈ نے اپنے اشتہار میں ایک دبلی پتلی خاتون کو بکنی میں ملبوس دکھایا تھا جس کے ساتھ تحریر تھا ’آر یو بیچ باڈی ریڈی؟‘

اس اشتہار پر خاصی برہمی اظہار کیا گیا اور برطانیہ کی ایڈورٹائزنگ سٹینڈرڈز اتھارٹی کو اس کے خلاف 400 سے زائد شکایات موصول ہوئیں جن میں اس اشتہار کو ’غیرذمہ دارانہ‘ اور ’ناپسندیدہ‘ قرار دیا گیا جبکہ ان کو ہٹانے کے لیے شروع کی گئی ایک آن لان پٹیشن میں چند ہی دن میں 71 ہزار لوگوں نے دستخط کیے۔

اس احتجاج نے لندن کے ہائیڈ پارک میں بھی مظاہرہ کیا گیا جس میں لوگوں کو نیم برہنہ حالت میں آنے کا کہا گیا تاکہ وہ یہ دکھا سکیں کہ ’تمام قسم کے جسم قابل قبول ہیں۔‘

ایڈورٹائزنگ واچ ڈاگ کا کہنا تھا کہ اس اشتہار کی بنا پر کوئی ’سنجیدہ یا بڑے پیمانے پر ‘ تحریک نہیں شروع ہوئی جبکہ اس کے برعکس پروٹین ورلڈ کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوا۔

اس کا کہنا تھا کہ ’یہ فیمنزم نہیں ہے، یہ انتہاپسندی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Gucci
Image caption کچھ لوگوں نےصادق خان پر ’اسلامی فکیشن کی کوشش‘ کرنے کا الزام عائد کیا

اس کے باوجود ’بیچ باڈی ریڈی‘ کے تنازعے نے میئر صادق خان کو پابندی کی جانب مائل کیا جبکہ انھیں یہ عہدہ سنبھالے ابھی دو ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا۔

میئر کے دفتر کے مطابق ہرسال ٹرانسپورٹ نیٹ ورک میں مخصوص جگہوں پر 12000 اشتہار لگائے جاتے ہیں جن میں پوسٹرز سے لے کر بل بورڈز شامل ہیں۔ آئندہ ساڑھے آٹھ برسوں میں یہ ڈیڑھ ارب پاؤنڈ کا کاروبار ہے۔

لندن اس قسم کی پابندی کا اطلاق کرنے والا پہلا دارالحکومت ہے تاہم اس سے قبل ناورے کے تیسرے بڑے شہر ٹرونڈہیم میں بھی اس قسم کی پابندی متعارف کروائی جاچکی ہے۔ جبکہ برازیل کے ساؤ پاؤلو میں بھی اشتہارات پر ’کلین سٹی لا‘ کے تحت 2006 سے پابندی عائد ہے۔

اشتہارات کے حوالے سے ہونے والے کئی سروے میں یہ امر بھی سامنے آیا ہے کہ زیادہ تر خواتین کے دبلی جسامت کا کسی کے اپنے کھانے پینے کی عادات پر بھی اثر ہوسکتا ہے اور ان میں کھانا نہ کھانے کی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER Fiona Longmuir and Tara Costello
Image caption صادق خان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس کا مقصد خاص طور پر نوجوان لوگوں میں اپنے جسم سے متعلق اعتماد پیدا کرنا ہے

صحت کے شعبے سے منسلک افراد نے اس پابندی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

تاہم اس پابندی پر میئر صادق خان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ کالم نگار فیونولا میرڈتھ نے لکھا کہ ’مجھے معاف کرنا صا(دق خان) میں اسے خواتین کی کامیابی نہیں سمجھتی۔‘

کچھ لوگوں نے اس سے بھی بڑھ کر انھیں ’اسلام پھیلانے کی کوشش‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وہ اپنی مذہبی اقدار کے باعث ایسا کر رہے ہیں۔

اس کے جواب میں میئر صادق خان کے دفتر سے سادہ سا جواب دیا گیا: سب وے اور بسوں پر سفر کرنے والے کسی بھی اشتہار کی ناپسندیدگی پر صفحہ نہیں پلٹ سکتے یا سوئچ آف نہیں کر سکتے۔

وہ کہتے ہیں کہ لندن کے تمام پبلک ٹرانسپورٹ نیٹ ورک استعمال کرنے والے صارفین کا خیال رکھنے کا ’ہمیں اپنا فرض نبھانا ہے‘۔

اسی بارے میں