اسرائیل فلسطینی تنازع حل نہ ہوا تو تشدد برقرار رہے گا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیل کا الزام ہے کہ فلسطینیوں کی اشتعال انگیزی سے تشدد بڑھ رہا ہے

دنیا کی کلیدی طاقتوں پر مبنی گروپ نے اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین نے اگر مثبت رویے اختیار نہ کیے تو ’مستقل قبضہ اور تنازع‘ چلتا رہے گا۔

چار ملکوں پر مشتمل اس گروپ ’کوارٹریٹ‘ نے اپنی رپورٹ میں جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا کہا ہے کہ خطے میں جاری تشدد، اسرائیل کی طرف سے غیر قانونی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینوں میں تقسیم امن قائم کرنے کی تمام امیدوں کو ختم کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف اور صرف باہمی مذاکرات ہی اس تنازع کو حل کر سکتے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست مذاکرات کا آخری سلسلہ تلخیوں کی وجہ سے اپریل سنہ 2014 میں ختم ہو گیا تھا۔

کوراٹریٹ جو امریکہ، اقوام متحدہ، پورپی یونین اور روس پر مشتمل ہے اسے فریقین میں مصالحت کے لیے سنہ 2002 میں بنایا گیا تھا تاکہ امن کی معدوم ہوتی ہوئی امیدوں کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے اور مذاکرات کے عمل کو تقویت دی جائے۔

جمعہ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں تین عوامل کی نشاندھی کی گئی جن کی بنا پر امن کے عمل کو آگے بڑہانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

  • ان میں تشدد، دہشت گردی اور اشتعال انگیزی
  • اسرائیل کی طرف سے نئی بستیوں کی تعمیر
  • غرب اردن میں محدود فلسطینی اتھارٹی کا غزہ پر عدم کنٹرول
Image caption اسرائیل کی طرف سے ہونے والی پر تشدد کارروائیوں میں دو سو فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت جاری کی گئی ہے جب فلسطین اور اسرائیل میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف سکیورٹی سخت سے سخت کر رہا ہے اور دوسری طرف فلسطینیوں کی طرف سے بھی اسرائیلیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر سے اب تک فلسطینیوں کے حملوں میں 35 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل فوج کی کارروائیوں میں دو سو فلسطینی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

Image caption فلسطینیوں کی طرف سے چھریوں اور گاڑیاں چھڑانے کے واقعات میں 35 اسرائیلی ہلاک ہوئے

اسرائیل کا الزام ہے کہ فلسطینیوں کی اشتعال انگیزی سے تشدد بڑھ رہا ہے۔

فلسطینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عشروں سے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ اور تشدد کی بنا پر فلسطینی عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے اور اس بنا پر وہ انتہائی اقدامات کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’فلسطینی رہنماوں نے دہشت گردی کے واقعات کی کبھی واضح الفاظ میں مذمت نہیں کی ہے۔ گلیوں، چوراہوں اور سکولوں کے نام ان فلسطینیوں کے ناموں پر رکھے جا رہے ہیں جو ان حملوں میں ملوث ہیں۔‘

رپورٹ میں فلسطینی اتھارٹی پر زور دیا ہے کہ ان اشتعال انگیز حملوں کے خلاف فیصلہ کن انداز میں کارروائی کرنا ہو گی اور دہشت گردی کی مذمت کرنا ہو گی۔

رپورٹ میں غرب اردن میں اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی تعمرات کے معاملے کو بھی اجاگر کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسئلہ رفتہ رفتہ دو ریاستی حل کو تباہ کر رہا ہے۔

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کو یہودی بستیوں کی تعمیر و توسیع کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی، زمین کو یہودیوں کے استعمال کے لیے مخصوص کرنے اور فلسطینیوں کی تعمیرات کے حق سے محروم رکھنا بند کرنا ہو گا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل نے در حقیقت غرب اردن میں فلسطینی سول اتھارٹی کو اختیار کا انتقال اُس علاقے میں عملاً روک دیا جن علاقوں کو عبوری امن معاہدے میں ’سی‘ ایریا کہا گیا تھا۔

اس علاقے میں تین لاکھ فلسطینی آباد ہیں اور یہ غرب اردن کے کل رقبے کا ساٹھ فیصد ہے۔

Image caption بین الاقوامی قوانین کے تحت یہودی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے

فلسطینی غرب اردن میں اپنی علیحدہ ریاست بنانا چاہتے ہیں اور بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت اور ایک عرصے سے یہ شکایت کر رہے ہیں کہ اسرائیل اس ریاست کے قیام کو مشکل بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں