’ڈرون حملوں میں 64 سے 116 عام شہری ہلاک ہوئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption امریکہ ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار تصور کرتا ہے

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی حکومت کے دوران ہونے والے ڈرون حملوں میں اب تک 64 سے 116 عام شہری مارے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد پاکستان، یمن اور صومالیہ میں ہونے والے ڈرون حملوں میں مارے گئے جہاں امریکہ براہ راست کسی جنگ میں ملوث نہیں ہے۔

* پاکستانی حدود میں ڈرون حملہ، امریکی سفیر کی طلبی

*پاکستان میں ڈرون حملوں میں ڈرامائی کمی

* ڈرون حملوں کی ’قانونی حیثیت کی وضاحت ضروری‘

امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار میں افغانستان، عراق اور شام کو شامل نہیں کیا گیا۔

امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مقابلے میں کافی کم ہے لیکن پہلی بار اوباما انتظامیہ نے سرکاری طور پر یہ معلومات جاری کی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ ڈائریکٹریٹ نیشنل انٹیلی جنس کے مطابق 2009 سے دسمبر 2015 کے دوران تینوں ممالک میں کیے جانے والے 473 ڈرون حملوں میں تقریباً 2500 سو شدت پسند ہلاک ہوئے۔

امریکی صدر نے ایک کے ساتھ ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کی تفصیلات ہر برس سامنے لانے کا حکمنامہ جاری کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈرون حملوں کے خلاف پاکستان میں متعدد بار احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کی مدت صدارت چند ماہ میں ختم ہونے والی ہے اور ان کے بعد آنے والا صدر بڑی آسانی سے اس حکمنامے کو تبدیل کر سکتا ہے کیونکہ اسے کانگریس سے منظور کر کے قانون کا درجہ نہیں دیا گیا۔

حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے صدر اوباما کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعداد و شمار میں مزید کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ان کا مکمل تجزیہ کرنا ممکن نہیں ہے۔

اوباما انتظامیہ نے تسلیم کیا ہے کہ غیر سرکاری اداروں کے مطابق ڈرون حملوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ 200 سے نو سو کے قریب ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ایسے طریقوں کا استعمال کیا ہے جنھیں برسوں سے آزمایا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے پاس جو معلومات ہیں وہ ان غیر سرکاری اداروں کے پاس نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حال ہی میں افغان طالبان کے امیر بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے

صدر اوباما کے دور اقتدار میں ڈرون حملوں کو شدت پسندوں کے خلاف موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور ان حملوں کے خلاف متعدد بار احتجاج بھی ہوئے اور انھیں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

پاکستان میں حکومت قبائلی علاقوں میں کئی برسوں تک ہونے والے ڈرون حملوں کے خلاف متعدد بار احتجاج کر چکی ہے اور اسے ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے جبکہ حال ہی میں بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیر کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں