بحیرۂ روم سے ہلاک شدگان کی لاشیں نکال لی گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مصر میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ مئی میں بحیرۂ روم میں تباہ ہونے والے ایجپٹ ایئر کے طیارے پر سوار افراد کی ایسی تمام لاشیں سمندر سے نکال لی گئی ہیں جن کی پہلے نشاندہی ہو چکی تھی۔

موریشس کا امدادی بحری جہاز اب یہ لاشیں لے کر مصر کی بندرگاہ اسکندریہ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔

یہ بحری جہاز بعد میں دوبارہ جائے حادثہ پر جا کر مزید لاشیں ڈھونڈنے کی کوشش کرے گا۔

19 مئی کو مصری فضائی کمپنی کا جہاز پیرس سے قاہرہ جاتے ہوئے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں اس پر سوار تمام 66 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امدادی جہاز جان لیتھبرج نے تمام انسانی باقیات نکال لی ہیں جن کی حادثے کے مقام پر نشاندہی کی گئی تھی

حادثے کی وجوہات کا ابھی تک تعین نہیں کیا جا سکا ہے۔

جہازوں کے حادثات کے بارے میں مصر کی تحقیقاتی کمیٹی کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امدادی جہاز جان لیتھبرج نے ’تمام انسانی باقیات نکال لی ہیں جن کی حادثے کے مقام پر نشاندہی کی گئی تھی۔‘

بیان کے مطابق اس عمل کی نگرانی کے لیے جہاز پر مصری اور فرانسیسی فورینسک عملہ موجود تھا۔ اب اسکندریہ میں خصوصی استغاثہ اور فورینسک عملہ ان باقیات کا ڈی این اے ٹیسٹ کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حادثے میں جہاز کے بلیک باکس کو نقصان نہیں پہنچا

کمیٹی نے ہفتے کو کہا کہ جہاز کے بلیک باکس کے وائس ریکارڈر کی میمری چِپ کو نقصان نہیں پہنچا اور اب تفتیش کار ان کی مدد سے حادثے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔

گذشتہ ہفتے مصری تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ بیلک باکس سے جہاز پر دھویں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

جہاز سے خودکار طریقے سے بھیجے جانے والے پیغامات سے پتہ چلتا ہے کہ ریڈار پر جہاز کی گمشدگی سے قبل ایک ٹوائلٹ اور کاک پٹ کے نیچے ایویانکس کے حصے میں دھویں کی نشاندہی کرنے والے آلات چل پڑے تھے۔

اسی بارے میں