’عراق پر حملے سےڈاکٹر خان نیٹ ورک ختم کرنےمیں مدد ملی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption عراق جنگ کے وقت جارج بش امریکہ کے صدر جبکہ ٹونی بلیئر برطانیہ کے وزیراعظم تھے

برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ صدام حسین کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کے نتیجے میں لیبیا کا کیمیائی اور جوہری ہتھیاروں کا پروگرام ختم کرنے اور پاکستان کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک کو بند کرنے میں مدد ملی۔

عراق پر فوج کشی میں شامل ہونے کے برطانوی حکومت کے فیصلہ پر چلکوٹ انکوائری رپورٹ پر اپنے رد عمل میں ٹونی بلیئر نے ایک طویل تقریر کی اور ان حالات کو تفصیل سے بیان کیا جن میں عراق پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ٹونی بلیئر نے کہا کہ عراق پرحملہ ان کے دس سالہ دورۂ حکومت کا سب سے سخت ترین اور اذیت ناک فیصلہ تھا۔

٭ برطانیہ کو صدام حسین سے فوری خطرہ نہیں تھا‘

٭ چلکوٹ رپورٹ کےخاص نکات

٭ ٹونی بلیئر جارج بش کو کیا لکھا؟

عراق پر فوجی کش کرنے کے برطانوی حکومت کے فیصلے پر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے جاری ہونے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ کسی حیل و حجت کے بغیر وہ اس فیصلے کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے پر عوام میں پائی جانے والی تقسیم سے آگاہ ہیں اور وہ پورے خلوص اور دل کی گہرائیوں سے ان لوگوں کا دکھ اور دور محسوس کرتے ہیں جس کا لفظوں میں اظہار ممکن نہیں کہ جنھوں نے اس جنگ میں اپنے کسی عزیر یا رشتہ دار کو کھو دیا، چاہیے وہ برطانوی فوج میں تھے، یا کسی دوسرے ملک کی فوج میں یا وہ عراقی ہوں۔

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے سر جان چلکوٹ کی رپورٹ پر کہا ہے کہ ’ان کا صدام حسین کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ اچھی نیت سے کیا گیا تھا اور انھیں یقین ہے کہ یہ ملک کے بہترین مفاد میں تھا۔

عراق پر حملے کے وقت برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ چلکوٹ رپورٹ میں امریکہ کے ساتھ تعلقات، تیاری، منصوبہ بندی اور طریقہ کار کے بارے میں صحیح اور مادی تنقید کی گئی۔‘

* ’برطانیہ کو صدام حسین سے فوری خطرہ نہیں تھا‘

انھوں نے کہا کہ’میں اپنی غلطیوں کی بغیر کسی عذر یا استثنیٰ کے مکمل ذمہ داری لیتا ہوں۔ میں اس کے ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ باوجود اس کہ ان کے خیال میں صدام حسین کو ہٹانا بہتر تھا اور میں اس بات پر یقین نہیں کرتا کہ صدام حسین کو ہٹانے کی وجہ سے آج ہمیں مشرق وسطیٰ یا کسی دوسری جگہ آج دہشتگردی نظر آتی ہے۔‘

ٹونی بلیئر نے کہا کہ آیا لوگ صدام حسین کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے بارے میں میرے فیصلے سے متفق ہوتے ہیں یا نہیں، میں نے یہ اچھی نیت سے کیا اور میرا خیال ہے کہ یہ ملک کے بہترین مفاد میں تھا۔

ٹونی بلیئر نے رپورٹ میں عراق کےبارے میں انٹیلیجنس پر اٹھائے گئے سوالات پر کہا کہ’ چلکوٹ رپورٹ میں انٹلیجنس کے غیر مناسب استعمال یا جعل سازی کے بارے میں معلوم نہیں ہوا اور نہ کابینہ سے دھوکہ دہی اور نہ ہی امریکی صدر جارج بش سے خفیہ طور پر جنگ کا وعدہ کے بارے میں پتہ چلا ہے۔‘

ٹونی بلیئر کے مطابق تحقیقات میں فوجی کارروائی کے قانونی جواز کے بارے میں پتہ نہیں چلا لیکن معلوم ہوا کہ 13 مارچ 2003 میں اٹارنی جنرل نے نتیجے نکالا کہ اس کی قانونی بنیاد تھی۔

موجودہ برطانوی وزیراعطم ڈیوڈ کیمرون نے دارالعوام میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’مجھے امید ہے کہ وہ رشتہ دار جن کے پیارے عراق جنگ میں مارے گئے، انھیں یہ جان کر کچھ سکون ملے گا کہ ہم ناقابل یقین قربانیوں کو نہیں بھولیں گے۔ ‘

وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کے اہل خانہ کے حوالے سے کہا کہ’ انھوں نے اپنا سب کچھ ملک پر قربان کر دیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

وزیراعظم نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے پارلیمان میں اس رپورٹ پر پارلیمان پورے دن بحث ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان خاندانوں کے لیے یہ مشکل دن ہے جنھوں نے اپنے پیارے (عراق جنگ) میں کھو دیے۔

سر جان چلکوٹ کی رپورٹ جاری ہونے کے بعد عراق جنگ میں مارے جانے والے برطانوی فوجیوں میں سے چند کے اہل خانہ نے ایک نیوز کانفرنس کی ہے۔

اس نیوز کانفرنس میں جنگ میں ہلاک ہونے والے ایک فوجی کی بہن نے کہا کہ’ ایک دہشت گرد ہے جس کے بارے میں دنیا کو علم ہونا چاہیے اور وہ شخص ٹونی بلیئر ہے۔‘

جنگ میں مارے جانے والے ایک فوجی کی ماں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے قتل کا ٹونی بلیئر کو ذمہ دار سمجھتی ہیں۔

اسی بارے میں