عدن: فوجی اڈے پر دو بم حملے، کم از کم دس فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت حامی فورسز نےگذشتہ سال عدن پر قبضہ حاصل کر لیا تھا لیکن اسے محفوظ رکھنے میں انھیں مشکلات کا سامنا ہے

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یمن کے شہر عدن میں ایئر پورٹ کے قریب فوجی مرکز پر دو خودکش کار بم حملے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں کم از کم دس یمنی فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

جنوبی ساحلی شہر کے ضلع خورماکسر میں مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر پر مسلح افراد نے حملہ بھی کیا ہے جس کے بعد شدید جھڑپوں کا آغاز ہو گیا۔

اب تک کسی تنظیم کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ تاہم ماضی میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور القاعدہ کی جانب سے ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

عدن شہر اس وقت حکومت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

حکومت حامی فورسز اور سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے کئی ممالک پر مبنی اتحادی فورسز یمن کے دارالحکومت ثنا پر حوثی باغیوں سے دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ان فورسز نے گذشتہ سال عدن پر قبضہ حاصل کر لیا تھا لیکن اسے محفوظ رکھنے میں انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عدن شہر اس وقت حکومت کا گڑھ سمجھا جاتا ہے

بدھ کو خورماکسر جو کہ عدن کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے میں ہونے والے حملے میں تقریباً دو درجن حملہ آور ملوث تھے۔

فوجی ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اطلاعات کے مطابق حملہ آور فوجی وردیاں پہنے ہوئے تھے اور انھوں نے مرکزی فوجی بیس کے داخلی دروازے کو کار بم سے اڑایا اور اس کے بعد اندر داخل ہو کر دوسرا دھماکہ کیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اس کے بعد سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری بھیجی گئی جہاں حملہ آوروں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان دستی بموں اور چھوٹے ہتھیاروں کا تبادلہ ہوا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق علاقے سے دھماکوں، گولیاں چلنے اور ایمبولینسز کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ مئی میں عدن میں ہونے والے دو بم حملوں میں تقریباً 40 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد آرمی ریکروٹس کی تھی اور اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں