بغداد دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد 281 ہوگئی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس سے قبل عراقی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 250 تھی

عراق میں حکام نے گذشتہ اتوار کو ہونے والے خود کش بم دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد میں ایک مرتبہ پھر اضافہ کر دیا ہے۔

عراق کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں جو بغداد میں شیعہ اکثریت والے علاقے کرادہ ضلع میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ہوا تھا اس میں 281 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔

اس سے قبل عراقی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 250 تھی۔

خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے اس خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

یہ دھماکہ سنہ 2003 کے بعد عراق پر امریکی حملے کے بعد سب سے خوفناک حملہ تھا۔

دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نےدو سال قبل عراق کے مغربی اور شمالی حصوں میں وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا تاہم سرکاری دستوں نے بہت سا علاقہ اب خالی کرا لیا ہے۔

ان علاقوں میں دولت اسلامیہ کو حالیہ ناکامیوں کے بعد انھوں نے رد عمل میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا شروع کر دیا ہے۔ اس دھماکہ کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ فلوجہ شہر کے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد رد عمل کے طور پر کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ دھماکہ سنہ 2003 کے بعد عراق پر امریکی حملے کے بعد سب سے خوفناک حملہ تھا

اتوار کو ہونے والے دھماکے میں بارود سے بھرے ایک ٹرک کو رمضان میں عید کے رش کے دوران ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ہوا جب یہ خریداروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور ان میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔

وزارتِ صحت کے ایک ترجمان احمد الرودائنی نے برطانوی خبررساں ادارے روائٹرز کو بتایا کہ کئی ایسے لوگ جو لاپتہ تھا اب انھیں ہلاک ہونے والوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

ہسپتالوں اور پولیس کے حکام نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اب بھی دھماکے کے ارد گرد کے علاقے اور ملبے سے انسانی اعضا مل رہے ہیں۔

اس دھماکے میں دوسو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے 23 زخمی اب بھی ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

اسی بارے میں