جرمنی: ریپ قانون میں تبدیلی،’نہ‘ کا مطلب ’نہ‘ ہوگا

تصویر کے کاپی رائٹ getty images
Image caption جرمنی میں ریپ کا الزام لگانےوالے کو ثابت کرنا ہوتا ہے کہ اس نے مزاحمت کی ہے

جرمنی کی پارلیمنٹ کےایوانِ زیریں بندسٹیگ ریپ سے متعلق ایک قانون کو منظور کرنے والا ہے جو ملک میں ریپ کی تعریف کو بدل دے گا۔

جرمنی کو ریپ کی فرسودہ تعریف کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایاجاتا رہا ہے۔

جرمنی میں رائج قانون کرمنل کوڈ کی سیکشن 177 کے تحت اگر کوئی خاتون یہ الزام عائد کرے کہ اسے ریپ کیاگیا ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے جنسی زیادتی کے خلاف مزاحمت کی ہے۔ موجودہ قانون کی نظر میں صرف ’زبانی انکار‘ پر ملزم کو سزا نہیں سنائی جا سکتی۔

قانون میں اس سقم کی وجہ جنسی زیادتی کے اکثر ملزمان بچ جاتے ہیں۔ سنہ 2014 میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق قانون خاتون کے’زبانی انکار‘ کو تسلیم نہیں کرتا۔

ایک اندازے کے مطابق جرمنی ریپ کے دس واقعات میں سے صرف ایک رپورٹ ہوتا ہے اور اس میں ملزمان کو سزا کی شرح صرف 10 فیصد ہے۔

قانون میں تبدیلی کیا ہو گی؟

جرمنی کےمجوزہ قانون میں اب یہ تبدیلی کی جا رہی ہے کہ ریپ کے الزام کی صحت کا اندازہ لگانے کے لیے حکام اب ’مزاحمت‘ اور ’زبانی انکار‘ دونوں کو خاطر میں لائیں گے جس کا مطلب ہے کہ قانون اب ’زبانی انکار‘ کو گواہی کے طور پر تسلیم کرے گا۔

سوچ میں تبدیلی کیسے آئی ؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ سال نو کی تقریبات میں سینکڑوں عورتوں نے جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی شکایت کی تھی

حقوق کی مہم چلانے والوں کا کہنا ہے کہ جرمنی ریپ کے قوانین کے حوالے سے ہمیشہ پس ماندہ رہا ہے۔ جرمنی میں ’ازدواجی ریپ‘ کا قانون سنہ 1997 میں متعارف کرایا گیا تھا۔

گذشتہ برس کولون میں سال نو کی تقریبات میں سینکڑوں عورتوں نے شکایت کی تھی کہ انھیں جنسی طور پر ہراساں کیا گیا جس نے جرمن معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ لوگوں کو یہ یہ جان کر بھی غصہ آیا کہ ریپ کے موجودہ قانون میں ’مزاحمت‘ کی شرط ہونے کی وجہ سے پولیس اکثر ملزمان کو سزا نہیں دلوا پائی اور صرف چند ملزمان ہی قانون کی گرفت میں آ سکے۔

جرمنی کی ایک مشہور ماڈل جینا لزا لہوفنک کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے نے بھی ریپ کے قوانین میں تبدیلی کی تحریک کو مضبوط کیا ہے۔ جینا لزا لہوفنک کو مبینہ طور پر دوافراد نے نشہ پلا کر ان سے جنسی فعل کیا گیا۔ جینا لہوفنک نے ایک ایسی ویڈیو بھی اپ لوڈ کی ہے جس میں وہ واضح طور پر یہ کہتے ہوئے سنی جا رہی ہیں’رک جاؤ ۔۔۔ نہیں‘۔ عدالت نے ان دونوں مردوں کو بری کر دیا تھا۔

عدالت نے نہ صرف جینا لزا لہوفنک کے الزام کو نہیں مانا بلکہ انھیں چھوٹی گواہی دینے پر 24 ہزار یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ جینا اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عدالت نے نہ صرف جینا لزا لہوفنک کے الزام کو نہیں مانا بلکہ انھیں چھوٹی گواہی دینے پر 24 ہزار یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا

جینالزا لہوفنک کے واقعےکا امریکہ کی سٹینفورڈ یونیورسٹی میں جنسی زیادتی کےمقدمے سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والے ریپ کے واقعے نے امریکہ میں ریپ کے قوانین میں تبدیلی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

لیکن قانون میں تبدیلی مہم چلانے والے ریپ کے قانون میں تبدیلی سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں۔ مہم چلانے والوں کا خیال ہے کہ یہ ایک اچھا آغاز تو ہے لیکن ابھی مزید آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون کسی ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جس کے تحت اگر متاثرہ فرد ’زبانی انکار‘ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو ایسے صورتحال سے نمٹنے کےلیے قانون اب بھی سقم موجود ہے۔

جرمنی میں جنسی طور پر ہراساں کرنے اور گروہ کے حملوں کے خلاف بھی قوانین کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں