ٹیکسی ڈرائیور نے احمدی دکاندار کے قتل کا اعتراف کر لیا

Image caption اسد شاہ نے ایسٹر کے موقع پر فیس بک پر اپنے گاہکوں کو ایسٹر کی مبارک باد پیش کی تھی اور اسی پیغام کے فورا بعد انہیں قتل کیا گیا تھا

برطانوی شہرگلاسگو میں ایک ٹیکسی ڈرائیور تنویر احمد نے ایک دکاندار اسد شاہ کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔

بریڈفورڈ سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ ٹیکسی ڈرائیور تنویر احمد نے رواں سال 24 مارچ کو گلاسگو میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے ایک دوکاندار اسدشاہ کو اس بنا پر حملہ کیا تھا کہ اس نے مبینہ طور پر اسلام کی توہین کی ہے۔

40 منٹ تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی میں ملزم نے عدالت کے سامنےاپنے جرم کا اقرار کیا۔

جج لیڈی ری نےکہا کہ اس نے یہ قابل نفرت جرم کسی دوسرے شخص کے مذہبی خیالات سے ناراض ہو کر کیا ہے اور اسے لمبی قید کا سامنا ہوگا۔

جج نے کہا: ’میں آپ پر واضح کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے جو کچھ کیا اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔‘

تنویر احمد نے اپریل میں اپنے وکیل کےذریعے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ اس نےدوکاندار اسد شاہ کو اسلام کی توہین کرنے کی پاداش میں کیا ہے اور اس قتل کا عیسائیت سےکوئی تعلق نہیں۔

دوکاندار اسد شاہ نے اپنے مذہبی خیالات پر مبنی سینکڑوں ویڈیوز یوٹیوب پر پوسٹ کی تھیں۔ اسد شاہ نے ایسٹر کے موقع پر فیس بک پر اپنے گاہکوں کو ایسٹر کی مبارک باد پیش کی تھی اور اسی پیغام کے فوراً بعد انھیں قتل کیا گیا تھا۔

عدالت کو بتایاگیا کہ اسد شاہ نےکچھ ایسی ویڈیوز پوسٹ کی تھیں جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ پیغمبر ہونے کا دعویدار ہے۔

تنویر احمد نے اپنے وکیل کے ذریعے پیغام میں کہا تھا کہ ’اگر میں یہ کام انجام نہیں دیتا تو کوئی دوسرا کر دیتا جس سے دنیا میں مزید خون خرابہ اور قتل و غارت گری ہوتی۔‘

احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے اسد شاہ تقریباً بیس برس قبل پاکستان سے برطانیہ کے شہر گلاسگو منتقل ہوئے تھے۔

اسی بارے میں