عراق: بغداد دھماکے، اعلی ترین سکیورٹی حکام معطل

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عراق کے دارالحکومت بغداد میں گذشتہ دنوں ہونے والے بم دھماکوں میں تقریباً 300 افراد کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی پر مامور تین اعلیٰ ترین افسر کو معطل کر دیا گیا ہے۔

جمعے کو عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے بغداد شہر کے سکیورٹی کے سربراہ کو اُن کے عہدے سے معطل کر دیا۔

یہ دھماکے شہر کے اُس علاقے میں ہوا جہاں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والا افراد کی اکثریت تھی۔

حملے کے بعد ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا تھا جہاں موجود افراد نے سکیورٹی کے ناقص انتظامات پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا اور دہشت گردی کے واقعات میں حکومتی ناکامی پر غصے کا اظہار کیا۔

وزیراعظم حید العبادی کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’بغداد کے آپریشن کمانڈر اور انٹیلیجنس اور سکیورٹی پر مامور تین افسران کو اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘

جنرل عبدالعامر الشمیری بغداد کے آپریشن کمانڈر کے عہدے پر تعینات تھے۔ خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق وزارتِ داخلہ میں بغداد کی سکیورٹی کے سربراہ کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اتوار کو بغداد میں ہونے والا دھماکہ رمضان کے آخری ایام میں عید کے رش کے دوران ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ہوا، جب بارود سے بھرا ایک ٹرک زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔ دھماکہ اُس وقت ہوا جب یہ شاپنگ سینٹر خریداروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور ان میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ان دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی اور یہ دھماکہ سنہ 2003 کے بعد عراق پر امریکی حملے کے بعد سب سے خوفناک حملہ تھا۔

عراق میں حکومت نے دولتِ اسلامیے کے خلاف آپریشن شروع کیا ہوا ہے اور اُن کے زیرِ قبضہ بہت سے علاقے خالی کروائے جا رہے ہیں۔

ان علاقوں میں دولت اسلامیہ کی حالیہ ناکامیوں کے بعد تنظیم نے اس کے رد عمل میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس دھماکہ کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ فلوجہ شہر کے دولت اسلامیہ کے ہاتھوں سے نکل جانے کے بعد رد عمل کے طور پر کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں