عراق میں مزار پر خودکش حملے میں 30 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عراق میں شیعہ مسلمانوں کے ایک مذہبی مقام پر خودکش حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراق کے شمالی شہر بلد میں واقع سید محمد بن علی الھادی کے مزار پر خودکش حملے کی ذمہ داری خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

٭ عراق: امریکی حملے کے بعد سے مہلک ترین تشدد

اطلاعات کے مطابق خودکش حملے سے پہلے حملہ آور مزار کے احاطے میں داخل ہوئے اور زائرین پر فائرنگ کی۔

دریں اثناگذشتہ اتوار کو بغداد میں شیعہ اکثریت والے علاقے کرادہ ضلع میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ہونے والے خود کش بم دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 250 سے بڑھ کی 292 ہو گئی ہے۔

عراق کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں جو بغداد میں شیعہ اکثریت والے علاقے کرادہ ضلع میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ہوا تھا اس میں 281 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔

حکام کے مطابق سنہ 2003 میں عراق میں امریکی حملے کے بعد سے اب تک ملک سب سے مہلک ترین حملہ تھا۔

عراق میں شدت پسندی کے حالیہ واقعات کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سنہ 2003 میں عراق میں امریکی حملے کے بعد سے اب تک بغداد میں دھماکہ سب سے مہلک ترین حملہ تھا

دولتِ اسلامیہ نے عراق کے شمال اور جنوب میں بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے تاہم حالیہ مہینوں میں عراقی سکیورٹی فورسز نے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

عراقی فورسز نے گذشتہ دنوں ہی فلوجہ شہر کو اس تنظیم کے قبضے سے آزاد کرایا ہے اور اس شکست کے بعد دولتِ اسلامیہ سے منسلک شدت پسندوں نے عام شہریوں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب عراقی حکومت پر عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی نہ بنانے پر تنقید کا سامنا ہے اور اس نے بغداد میں دھماکوں کے بعد سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔

اسی بارے میں