’پاکستان کا اچھے اور برے دہشتگردوں میں امتیاز برقرار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قیام امن ہماری ترجیح ہے تاہم اس کے حصول کے لیے لازم ہے کہ ہم اس جنگ کو سمجھیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے: اشرف غنی

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے خطے کے دیگر ممالک تو مدد کر رہے ہیں تاہم پاکستان اب بھی ’اچھے اور برے دہشت گردوں‘ کی تمیز روا رکھے ہوئے ہے۔

٭ طالبان کو منانا صرف پاکستان کی ذمہ داری نہیں

پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں نیٹو سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان سے متعلق چار ملکی امن عمل میں یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان خطرناک طور پر اچھے اور برے دہشت گردوں میں عملی طور پر تفریق کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انھوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم میں متفقہ قواعد موجود نہیں ہیں اور جن کے لیے افغانستان علاقائی اور عالمی حمایت کی خواہش رکھتا ہے کیونکہ اس کی بدولت ہم سب متفقہ سلامتی اور ہم آہنگی کے پابند ہوں گے۔

سعودی عرب میں حال ہی میں ہونے والے خودکش حملے پر بات کرتے ہوئے اشرف غنی کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو اپنی تہذیب کو قبضے میں لینے والے چھوٹے گروہ کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔

اپنے خطاب میں اشرف غنی نے افغان فوج کی تربیت میں معاونت کرنے پر بھی نیٹو افواج کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اشرف غنی نے کہا کہ قیام امن ہماری ترجیح ہے تاہم اس کے حصول کے لیے لازم ہے کہ ہم اس جنگ کو سمجھیں جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔

’جنگ کثیر الجہتی ہے جو القاعدہ اور داعش جیسے دہشت گرد گروپوں سے لے کر وسطی ایشیا تک پھیلی ہوئی ہے۔ چین اور روس سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں، پاکستانی گروہ پاکشتانی اور افغان طالبان گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ گروہ خطے کے لیے خطرہ ہیں۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف گذشتہ برس منظور ہونے والے مکہ اعلامیے کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ عرب ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے ہیں۔

اشرف غنی نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی موجودہ تعداد برقرار رکھنے کے فیصلے پر امریکی صدر براک اوباما کا شکریہ ادا کیا۔

بی بی سی پشتو سروس کے مطابق نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہمارا پیغام واضح ہے کہ افغانستان اکیلے نہیں ہے اور ہم طویل مدت کے لئے مصروف عمل ہیں۔‘

ادھر نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے وارسا میں آمد کے موقع پر برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ نیٹو’ افغان حکومت اور افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے تاکہ دہشت گردوں کو اس ملک سے دور کرنے میں مدد کر سکیں۔‘

انھوں نے کہا کہ برطانوی فوجیوں کی تعیناتی اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ یورپی اتحاد سے نکلنے کے فیصلے کے باوجود برطانیہ عالمی سطح پر مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

اسی بارے میں