کیلیفورنیا کے بےگھر افراد کا سامان

تصویر کے کاپی رائٹ

ہوانگ کنگ جن نے تقریباً ایک دہائی تک چین کے دور دراز علاقوں کا سفر کیا اور لوگوں کی ان کے گھروں کے باہر تمام اشیا کے ساتھ تصاویر بنائیں۔ اب انھوں نے کچھ ایسا ہی کیلیفورنیا میں بے گھر افراد کے ساتھ کیا ہے۔

ہوانگ کنگ جن کا کہنا ہے کہ ’سنہ 2010 میں نے پہلی بار امریکہ کر سرزمین پر قدم رکھا، میں نے بہت سے بے گھر افراد کو نیویارک کی گلیوں میں دیکھا لیکن ان کے قریب جانے کی ہمت نہیں کی، کیونکہ مجھے بتایا گیا تھا کہ ان میں سے کئی منشیات، چوری اور فساد کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔‘

وہ سنہ 2015 میں فلم بنانے والے چند افراد کے ساتھ لاس اینجلس آئے تھے جہاں انھوں نے سڑک پر درجنوں اکھڑے ہوئے خیمے دیکھے۔

’میں نے اس سے قبل 53 خاندانوں کی ان کے سب سے قیمتی سامان کے ساتھ تصاویر بنائی تھیں اور میں دیکھنا چاہتا تھا کہ ان بے گھر افراد کے پاس کس قسم کا سامان ہے۔‘

ہوانگ کنگ جن تصاویر بنانے کے لیے اپنے نائکون کیمرے کی بجائے آئی فون لے کر گئے اور اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی: ’کیمرے کی وجہ سے میں زیادہ تر لوگوں کے پاس نہ جا سکتا اس لیے میں موبائل فون لے آیا۔‘

انتہائی مشکل کے بعد سکاٹ نامی ایک بے گھر شخص اپنی تصویر بنوانے پر رضامند ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Huang Qingjun

41 سالہ سکاٹ

’میں میں نے 12 سال کی عمر میں منشیات کا استعمال شروع کیا اور اب میں 41 سال کا ہوں۔ میں بے گھر ہوں اور ملازمت بھی نہیں ہے۔ میں ہیروئن کا عادی ہوں، لیکن ابھی تک اپنے حواس میں ہوں۔ میں نے سکول وغیرہ میں تعلیم نہیں حاصل کی سب کچھ خود ہی سیکھا ہے۔ میں فن سے متعلق مختلف قسم کے کام کر سکتا ہوں، میں فنکار بننے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

چارلز نیلسن

’میں اپنی ملازمت اور اپارٹمنٹ کھو چکا ہوں۔ میرا ایک دوست یہاں پہلے سے رہ رہا تھا۔‘

چارلز نیلسن نے بتایا: ’لہذا میں نےاپنے دوست سے پوچھا کہ کیا میرے لیے کوئی جگہ ہے؟ اس نے کہا ہاں ہے۔ میرے پاس ایک خیمہ تھا وہ میں نے لگایا اور یہاں اپنے دوست کے ساتھ رہنا شروع کر دیا۔ میں نے اپنے دوست کی کچھ مدد کی کیونکہ وہ کچھ بیمار تھا اور کوئی چار ماہ بعد وہ مر گیا۔ اس کے بعد میری صورتحال کچھ بہتر ہوئی تو میں نے یہیں رہنے لگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

37 سالہ ملیساسٹریچ

’میں کچھ برے لوگوں کے ساتھ ملی اور نتیجتاً بے گھر ہو گئی۔‘

’میں زیادہ عرصے تک ایسے نہیں رہ سکتی۔ میں اپنا اپارٹمنٹ جلد حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

مائیکل ٹی اولیور

مائیکل ٹی اولیور جن کی عمر 47 سال ہے نے اپنے بارے میں بتایا: ’ایک ہی ہفتے میں میری طلاق ہوئی، ملازمت گئی اور میں بے گھر ہو گیا۔ میرے پاس رہنے کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔ بعض اوقات مجھے حکومت کی جانب سے کچھ کھانا اور چندہ مل جاتا ہے لیکن میں چرچ گروپس اور دیگر تنظیموں کے پاس نہیں جاتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

جان رائیس

57 سالہ جان رائیس نے بتایا: ’میں ایسے زندگی اس لیے گزار رہا ہوں کیونکہ میری ایک ڈرائیور سے ٹکر ہو گئی تھی۔ 22 سال تک میں میکنک تھا اور حادثے کے بعد میں تین ماہ تک ہسپتال میں رہا۔ میں زیادہ یاد نہیں کیونکہ میرے دماغ کا آدھا حصے کو نقصان پہنچا تھا۔‘

’اب مجھے ہر چیز پر غصہ آتا ہے۔ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ نہ رہنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ میں ان پر غصہ نہیں ہونا چاہتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

50 سالہ جان مارشل

’میں اب مزید ملازمت تلاش نہیں کر سکتا۔ کوئی بھی ایک بزرگ موبائل انجینیئر کو نہیں رکھنا چاہتا۔ میں نے زندگی گزارنے کا یہ راستہ منتخب کیا کیونکہ یہ بہتر ہے۔ مشکل وقت تو ہے کیونکہ کرنے کو کچھ نہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

49 سالہ اینتھونی ولیمز

میرا تعلق مشرقی پاؤلو ایلٹو سے ہے۔ میں نے اس طرح زندگی گزارنے کا انتخاب اس لیے کیا کیونکہ جب میں یہاں پہلی بار آیا تو ایک بے گھر لڑکی تھی۔ ہم دونوں کام کرتے تھے۔‘

’مجھے حکومت کی طرف سے کوئی امداد نہیں ملتی، چرچ سے تھوڑی مدد ملتی ہے۔ بعض افراد امداد دینے کے لیے ہفتے میں دو سے تین بار آتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ ملازمت کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

کرسٹو اور جیکب

21 سالہ کرسٹو اور 18 سالہ جیکب بھائی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’ہمارے دو بھائی اور بھی ہیں جو ہم سے چھوٹے ہیں اور ہمارے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہمیں بے گھر ہوئے چار سال ہو گئے ہیں۔

’ہم نے ایسے رہنے کا انتخاب خود نہیں کیا پر ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ ہمیں اب عادت ہو چکی ہے لیکن اب بھی ہمارے خیال میں یہ زندگی گزارنے کا اچھا راستہ نہیں ہے اور ہمارا مقصد ہے یہاں سے جلد نکلنا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

23 سالہ تیون اور 40 سالہ لینیٹ

تیون: ’میں یہاں تین سے چار سال قبل آیا تھا جب میں اپنے دوستوں کے ساتھ چھٹیاں گزار رہا تھا۔ میں نے واپسی کا کبھی نہیں سوچا۔ موسم بہتر ہے اور لوگ اچھے ہیں۔‘

لینیٹ: ’میں کیلیفورنیا میں 33 سال سے رہ رہا ہوں۔ مجھے یہاں کا موسم پسند ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ

این بکا

’میں سان فرانسسکو میں پیدا ہوئی۔ میرے خاندان والے اٹلی سے یہاں آئے تھے۔ میں یہاں پیدا ہونے کے بعد سے یہاں رہ رہی ہوں۔ میں اب تک اٹلی نہیں گئی لیکن میں وہاں جانا چاہوں گی۔‘

اسی بارے میں