’جانسن نے ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنا رکھا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 25 سالہ جانسن پولیس کے ہاتھوں سیاہ فاموں کی ہلاکت پر ناراض تھے

امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ڈیلس کی پولیس کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پانچ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے حملہ آور نے ایک بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔

پولیس کے مطابق 25 سالہ میکاہ جانسن پولیس کے ہاتھوں سیاہ فاموں کی ہلاکت کے واقعات پر ناراض تھے اور سفید فام پولیس افسران کو مارنا چاہتے تھے۔

٭ سیاہ فام ہی کیوں پولیس کے نشانے پر؟

٭ احتجاجی ریلی میں فائرنگ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک

٭ ٹیکساس فائرنگ: کب اور کیسے ہوئی؟

سٹی پولیس چیف ڈیوڈ براؤن کا کہنا ہے کہ وہ پریقین ہیں کہ جانسن کے منصوبے بڑے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیوڈ براؤن نے بتایا کہ اس کا کہنا تھا کہ وہ کسی گروہ سے منسلک نہیں اور یہ کام وہ اپنے طور پر کر رہا تھا

سی این این سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جانسن نے جو کہ سابق فوجی اہلکار تھے، دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی تربیت لے رکھی تھی۔

پولیس چیف کا کہنا ہے کہ پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ انگریزی کے حروف ’آر‘ اور ’بی‘ کی کیا اہمیت ہے جنھیں جانسن نے مرنے سے قبل اپنے خون سے لکھا تھا۔

ڈیوڈ براؤن کے مطابق حکام جانسن کی رہائش گاہ سے ملنے والے جرنل سے بھی معلومات کے حصول کی کوشش کر رہی ہے تاہم اسے سمجھنے میں مشکلات درپیش ہیں۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جمعرات کو دو گھنٹوں تک جاری رہنے والی بات چیت میں دیکھا گیا کہ جانسن پولیس کا مذاق اڑاتے رہے تھے۔

ڈیلس میں پانچ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور سات کو زخمی کیے جانے کا واقعہ پولیس کے ہاتھوں دو سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران پیش آیا تھا۔

پولیس نے اہلکاروں پر حملے میں ملوث تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہوا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے مبینہ حملہ آور جانسن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے والے مبینہ شخص میکاہ جانسن کے مکان سے بم بنانے کا مواد، رائفلز اور جنگی رسالے برآمد ہوئے ہیں۔

سنیچر کو ڈیلس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کی دھمکی ملنے کے بعد شہر میں تمام تھانوں کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں