ڈیوڈ کیمرون مستعفی، ٹریزا مے نئی وزیر اعظم

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانیہ کے 49 سالہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون قریباً چھ سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوگئے ہیں اور کنزرویٹیو پارٹی کی نئی سربراہ ٹریزا مے نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

ڈیوڈ کیمرون نے برطانوی عوام کی جانب سے ریفرینڈم میں یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

کیمرون یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حق میں تھے جب کہ ان کی کابینہ کے بیشتر اراکین برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے حامی تھے۔

کیمرون کی جگہ لینے والی 59 سالہ ٹریزا مے نے بھی بریگزٹ ریفرینڈم میں ’ریمین‘ یا یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کو آخری بار دارالعوام میں سوالات کے جواب کے سیشن میں شرکت کی جس کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ بکنگھم پیلس میں ملکہ برطانیہ سے ملاقات کے لیےگئے جہاں انھوں نے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملکہ برطانیہ نے ٹریسا مےکو حکومت بنانے کی دعوت دی

ان کے مستعفیٰ ہونے کے بعد کنزرویٹیو پارٹی کی نئی سربراہ ٹریزا مے نے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کی جس میں ملکہ نے انھیں حکومت بنانے کی دعوت دی۔

اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون جب بدھ کو آخری بار داالعوام سے بطور وزیراعظم شرکت کے بعد جانےلگے تو سپیکر جان برکو سمیت کنزرویٹو پارٹی کےاراکین نے انھیں اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر الوادع کیا۔

لبرل ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق ڈپٹی وزیر اعظم نک گلیگ بھی ان اراکین میں شامل تھے جنھوں نے کھڑے ہو کر تالیاں بجا کر ڈیوڈ کیمرون کو الوادع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

لیبر پارٹی کے سربراہ جیرمی کوربن نے بھی وزیر اعظم کے رخصت ہونے پر اپنی سیٹ پر بیٹھ کر تالیاں بجائیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے سوالات کے سیشن کے دوران کہا کہ وہ عوامی زندگی سے ریٹائر نہیں ہوں گے اور اب وہ پچھلی نشستوں پر نظر آئیں گے۔

انھوں نے اپنا خطاب اسی جملے سے ختم کیا جو انھوں نے 2005 میں قائد حزب اختلاف بننے کے بعد اس کے وقت وزیراعظم ٹونی بلیئر سے کہا تھا: ’میں بھی کبھی مستقبل تھا۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے روزانہ ٹیلی گراف کو بتایا ’میں ڈاؤننگ سٹریٹ میں لوگوں کو مشکل فیصلوں سے نکالنے اور بطور ملک مسائل کا سامنا کرنے آیا تھا تاکہ مل کر ہم اچھے وقت تک پہنچ سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹریسا مے بطور وزیر اعظم اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنی نئی کابینہ کے لیے ناموں پر غور کریں گی

اسی بارے میں